تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 154 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 154

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اولد سورة بني اسراءيل , اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ خارجی طور پر باطل کو شکست دیوے چنانچہ دوسری جگہ آیا ہے جَاءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ اور خود اس آیت میں بھی فرمایا ہے لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُله (الصف : ١٠) یعنی اس رسول کی آمد کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ حق کو غلبہ دے گا یہ غلبہ تلوار اور تفنگ سے نہیں ہوگا بلکہ وجوہ عقلیہ سے ہوگا۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۱۳ مورخہ ۱۰ را پریل ۱۹۰۲ء صفحه ۶) جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۔۔۔۔ قرآن شریف میں بھی یہ آیت بتوں کے ٹوٹنے اور اسلام کے غلبہ کے واسطے آئی ہے۔ ( بدر جلد نمبر ۳ مورخه ۲۰ را پریل ۱۹۰۵ء صفحه ۲) قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِهِ فَرَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ أَهْدَى سَبِيلًا كُن يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِه یعنی هر یک شخص اپنی فطرت کے موافق عمل کرتا ہے۔ ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۸۹ حاشیه ) ہر ایک اپنے قومی اور اشکال کے موافق عمل کرنے کی توفیق دیا جاتا ہے۔ ہر شخص اپنے مادہ اور فطرت کے مطابق عمل کر رہا ہے۔ (جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه (۲۷۸) مکتوبات جلد ۵ نمبر ۵ صفحه ۲۰۱) یہ سچ ہے کہ سب انسان ایک مزاج کے نہیں ہوتے اسی لئے قرآن شریف میں آیا ہے كُل يَعْمَلُ عَلی شاكلته بعض آدمی ایک قسم کے اخلاق میں اگر عمدہ ہیں تو دوسرے قسم میں کمزور ۔ اگر ایک خُلق کا رنگ اچھا ہے تو دوسرے کا بُرا۔ لیکن تاہم اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اصلاح نا ممکن ہے۔ البدر جلد ۳ نمبر ۳۴ مورخه ۸ استمبر ۱۹۰۴ ء صفحه (۴) ہر شخص اپنے قومی کے موافق کام کرتا ہے۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۴۳ مورخه ۱۰ / دسمبر ۱۹۰۵ء صفحه (۳) وَ يَسْتَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَ مَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلا V ہر یک جسم میں جتنے ذرات ہیں اسی قدر روحوں کا اس سے تعلق ہے اگر ایک قطرہ پانی کو خورد بین سے دیکھا جائے تو ہزاروں کیڑے اس میں نظر آتے ہیں ویسا ہی پھلوں میں اور بوٹیوں میں اور ہوا میں بھی کیڑے مشہود و محسوس ہیں۔ بہر حال ہر یک جسم دار چیز کیڑوں سے بھری ہوئی ہے مگر کبھی وہ کیڑے مخفی ومح