تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 136 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 136

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۶ سورة بني اسراءيل جو شخص اس جہان میں اندھا رہا وہ آنے والے جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا بلکہ اندھوں سے بدتر ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نیک بندوں کو خدا کا دیدار اسی جہان میں ہو جاتا ہے اور وہ اسی جگ میں اپنے اس پیارے کا درشن پالیتے ہیں جس کے لئے وہ سب کچھ کھوتے ہیں ۔ غرض مفہوم اس آیت کا یہی ہے کہ بہشتی زندگی کی بنیاد اسی جہان سے پڑتی ہے اور جہنمی نابینائی کی جڑ بھی اسی جہان کی گندی اور کورانہ زیست ہے۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۸۹، ۳۸۰) جو شخص اس جہان میں اندھا ہو گا وہ دوسرے جہان میں بھی اندھا ہوگا۔ اس آیت کا مقصد یہ ہے کہ اس جہان کی روحانی نابینائی اس جہان میں جسمانی طور پر مشہود اور محسوس ہوگی ۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۰۹) جو شخص اس دنیا میں خدا کے دیکھنے سے بے نصیب ہے وہ قیامت میں بھی تاریکی میں گرے گا۔ (کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه (۶۵) جو شخص اس جہان میں اندھا ہو وہ اس دوسرے جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا بلکہ اندھوں سے بدتر ۔ یعنی خدا کے دیکھنے کی آنکھیں اور اس کے دریافت کرنے کے حواس اسی جہان سے ملتے ہیں جس کو اس جہان میں نہیں ملے اس کو دوسرے جہان میں بھی نہیں ملیں گے۔ راستباز جو قیامت کے دن خدا کو دیکھیں گے وہ اسی جگہ سے دیکھنے والے حواس ساتھ لے جائیں گے۔ اور جو شخص اس جگہ خدا کی آواز نہیں سنے گا وہ اس جگہ بھی نہیں سنے گا۔ خدا کو جیسا کہ خدا ہے بغیر کسی غلطی کے پہچاننا اور اسی عالم میں سچے اور صحیح طور پر اس کی ذات اور صفات کی معرفت حاصل کرنا یہی تمام روشنی کا مبدء ہے۔ (کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۸۰) تم دیکھتے ہو کہ جب آفتاب کی طرف کی کھڑکی کھولی جائے تو آفتاب کی شعاعیں ضرور کھڑکی کے اندر آ جاتی ہیں ایسا ہی جب انسان خدا تعالیٰ کی طرف بالکل سیدھا ہو جائے اور اس میں اور خدا تعالیٰ میں کچھ حجاب نہ رہے تب فی الفور ایک نورانی شعلہ اس پر نازل ہوتا ہے اور اُس کو منور کر دیتا ہے اور اس کی تمام اندرونی غلاظت دھو دیتا ہے۔ تب وہ ایک نیا انسان ہو جاتا ہے اور ایک بھاری تبدیلی اس کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ تب کہا جاتا ہے کہ اس شخص کو پاک زندگی حاصل ہوئی۔ اس پاک زندگی کے پانے کا مقام یہی دنیا ہے۔ اسی کی طرف اللہ جل شانہ اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْلَى وَأَضَلُّ سَبِيلًا یعنی جو شخص اس جہان میں اندھا رہا اور خدا کے دیکھنے کا اس کونور نہ ملا وہ اس جہان میں