تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 132
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۲ سورة بني اسراءيل وَ إِذْ قُلْنَا لَكَ إِنَّ رَبَّكَ أَحَاطَ بِالنَّاسِ وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي الْقُرْآنِ وَ نُخَوِّفُهُمْ فَمَا يَزِيدُهُمْ إِلَّا طُغْيَانًا كبيران ارينك - بخاری میں جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ الباری ہے تمام معراج کا ذکر کر کے اخیر میں فَاسْتَيْقَظَ لکھا ہے اب تم خود سمجھ لو کہ وہ کیا تھا۔ قرآن مجید میں بھی اس کے لئے دھیا کا لفظ ہے وَ مَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا التِي ( اخبار بدر جلدی نمبر ۱۹ ، ۲۰ مورخه ۲۴ رمئی ۱۹۰۸ صفحه ۵) وَ اسْتَفْزِزُ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُم بِصَوْتِكَ وَ اجْلِبُ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ وَ رَجِلِكَ وَ شَارِكْهُمْ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ وَعِدُهُمْ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَنُ إِلَّا غُرُورًا دنیا میں بچے دو قسم کے پیدا ہوتے ہیں (۱) ایک جن میں نفخ روح القدس کا اثر ہوتا ہے اور ایسے بچے وہ ہوتے ہیں جب عورتیں پاک دامن اور پاک خیال ہوں اور اسی حالت میں استقرار نطفہ ہو وہ بچے پاک ہوتے ہیں اور شیطان کا ان میں حصہ نہیں ہوتا (۲) دوسری وہ عورتیں ہیں جن کے حالات اکثر گندے اور نا پاک رہتے ہیں۔ پس ان کی اولاد میں شیطان اپنا حصہ ڈالتا ہے جیسا کہ آیت وَ شَارِكَهُمْ فِي الْأَمْوَالِ وَ الاولاد اسی کی طرف اشارہ کر رہی ہے جس میں شیطان کو خطاب ہے کہ ان کے مالوں اور بچوں میں حصہ دار بن جا۔ یعنی وہ حرام کے مال اکٹھا کریں گی اور ناپاک اولاد پاک اولاد جنہیں گی ۔ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۷ ۱ صفحه ۲۹۷، ۲۹۸) یا د رکھو ولادت دو قسم کی ہوتی ہے ایک ولادت تو وہ ہوتی ہے کہ اس میں روحِ الہی کا جلوہ ہوتا ہے اور ایک وہ ہوتی ہے کہ اس میں شیطانی حصہ ہوتا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں بھی آیا ہے کہ وَ شَارِكُهُمْ فِي الْأَمْوَالِ وَالأَولادِ یہ شیطان کو خطاب ہے۔ الحکم جلدے نمبر ۱۶ مورخه ۳۰ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۸) فاسقوں فاجروں کی ارواح کو بسبب ان کے فسق و فجور اور شرک کی گندگی کے رُوح مِنْہ نہیں کہہ سکتے بلکہ وہ رُوحُ الشَّيْطَانِ ہوتے ہیں جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے وَ شَارِكْهُمْ فِي الْأَمْوَالِ وَ الْأَوْلَادِ اور اس طرح سے ہم مانتے ہیں کہ بعض رُوحُ الشَّيْطَانِ ہوتے ہیں اور بعض روح منہ ہوتے ہیں۔