تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 126
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۶ منہ میں آئی کہہ دی۔ ہر ایک نبی کے ساتھ ایسا ہوتا رہا ہے۔ سورة بني اسراءيل الحکم جلدے نمبر ۲۲ مورخه ۷ ارجون ۱۹۰۳ صفحه ۱۸) یہ اسی زمانہ کے لئے ہے کیونکہ اس میں ہلاکت اور عذاب مختلف پیرایوں میں ہے کہیں طوفان ہے کہیں زلزلوں سے کہیں آگ کے لگنے سے۔ اگر چہ اس سے پیشتر بھی یہ سب باتیں دنیا میں ہوتی رہی ہیں مگر آج کل ان کی کثرت خارق عادت کے طور پر ہو رہی ہے جس کی وجہ سے یہ ایک نشان ہے۔ اس آیت میں طاعون کا نام نہیں ہے صرف ہلاکت کا ذکر ہے خواہ کسی قسم کی ہو۔ یہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس قوت اور پوری توجہ سے لوگوں نے دنیا اور اس کے ناجائز وسائل کو مقدم رکھا ہوا ہے اور عظمت الہی کو دلوں سے اٹھا دیا ہے۔ اب صرف وعظوں کا کام نہیں ہے کہ اس کا علاج کر سکیں عذاب الہی کی ضرورت ہے۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۶ مورخه ۱۷ رفروری ۱۹۰۴ صفحه (۲) پھر مسیح موعود کے وقت کا ایک نشان طاعون کا تھا ۔ انجیل توریت میں بھی یہ نشان موجود تھا اور قرآن شریف سے بھی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ نشان مسیح موعود کا خدا تعالی نے ٹھیرایا تھا چنانچہ فرمایا و ان مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا یہ باتیں معمولی نہیں ہیں بلکہ غور سے سمجھنے کے لائق ہیں اور اب دیکھ لو کہ کیا طاعون ملک میں پھیلی ہوئی ہے یا نہیں؟ اس سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا۔ الحکم جلدے نمبر ۲۶ مورخہ ۱۷ جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۲) پھر قرآن شریف میں ایک اور نشان بتایا گیا تھا کہ اس زمانہ میں طاعون کثرت سے پھیلے گا۔ احادیث میں بھی یہ پیشگوئی تھی ۔ قرآن مجید میں لکھا تھا وَ اِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيمَةِ أَوْ مُعَذِّبُوهَا عَذَابًا شَدِيدًا اور دوسری جگہ صاف طور پر بتایا گیا تھا کہ وہ ایک زمینی کیڑا ہوگا ( دابۃ الارض ) پر آخری زمانہ میں بہت سے لوگ اس سے مریں گے۔ اب کوئی بتائے کے کیا اس نشان کے پورا ہونے میں کوئی شک و شبہ باقی رہ گیا ہے؟ الحکم جلدا انمبر ۳ مورخہ ۲۴ جنوری ۱۹۰۷ ء صفحه ۸) اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جب قیامت قریب آجائے گی تو عام طور پر موت کا دروازہ کھولا جاوے گا۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۷ مورخہ ۳۱ جولائی ۱۹۰۶ء صفحہ (۳) اس کے یہی معنے ہیں کہ طاعون آخری زمانہ میں تمام جہان میں دورہ کرے گی۔ الحکم جلدا انمبر ۳۱ مورخه ۳۱ اگست ۱۹۰۷ صفحه (۱۲) طاعون کے ذکر پر فرمایا کہ اس عذاب کی اللہ کریم نے پہلے ہی سے قرآن مجید میں خبر دے رکھی ہے جیسے