تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 123 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 123

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۳ سورة بني اسراءيل میرے مقابلہ پر بلاؤ اور جو تد بیر میرے مغلوب کرنے کے لئے کر سکتے ہو وہ سب تدبیریں کرو اور مجھے ذرہ مہلت مت دو اور یہ بات سمجھ رکھو کہ میرا حامی اور ناصر اور کار ساز وہ خدا ہے جس نے قرآن کو نازل کیا ہے اور وہ اپنے سچے اور صالح رسولوں کی آپ کا رسازی کرتا ہے مگر جن چیزوں کو تم لوگ اپنی مدد کے لئے پکارتے ہو وہ ممکن نہیں ہے جو تمہاری مدد کر سکیں اور نہ کچھ اپنی مدد کر سکتے ہیں ۔ (براہین احمد یہ چہار قصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۱۹ حاشیه در حاشیه نمبر (۳) 1 وَ إِنْ مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيمَةِ أَوْ مُعَذِّبُوهَا عَذَابًا شَدِيدًا كَانَ ذَلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُورًا فَالْحَاصِلُ أَنَّ الطَّاعُونَ قَدْ لَا زَمَ حاصل کلام یہ ہے کہ طاعون اس ملک کو اس طرح چمٹ هُذِهِ الرِّيَارَ مُلَازَمَةَ الْغَرِيمِ ، أَوِ الْكَلْبِ گئی ہے جس طرح ایک قرض خواہ قرض دار کو چمٹ جاتا ہے لِأَصْحَابِ الرَّقِيمِ۔ وَمَا أَظُنُّ أَنْ يُعْدَمَ یا جس طرح اصحاب کہف کا کتا ان کے ساتھ چمٹ گیا تھا۔ اور قَبْلَ سِنِينَ، وَقَدْ قِيلَ عُمْرُ هَذِهِ الْآفَةِ میں خیال کرتا ہوں کہ یہ و با چند سال تک چلتی چلی جائے گی۔ إِلَى سَبْعِينَ۔ وَإِنَّهَا هِيَ النَّارُ الَّتِي جَاءَ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس وبا کا زمانہ ستر سال تک لمبا ہو سکتا ذِكْرُهَا فِي قَوْلِ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، وَفِی ہے اور یہ وہ آگ ہے جس کا ذکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم الْقُرْآنِ الْمَجِيدِ مِنْ رَّبِّ الْعَالَمِينَ کے اقوال میں اور اللہ تعالیٰ کے کلام قرآن مجید میں آیا ہے۔ وَإِنَّهَا خَرَجَتْ مِنَ الْمَشْرِقِ كَمَا رُوِی اور یہ آگ مشرق سے نکلی ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ عَنْ خَيْرِ الْمُرْسَلِينَ، وَسَتُحِيطُ بِكُلِّ وسلم سے مروی ہے اور عنقریب یہ ساری معمورہ زمین پر محیط ہو مَعْمُورَةٍ مِنَ الْأَرْضِينَ، وَكَذَالِكَ جَاءَ جائے گی اور ایسا ہی پہلی کتابوں میں بھی آیا ہے پس انتظار کر فِي كُتُبِ الْأَوَّلِينَ، فَانْتَظِرُ حَتَّى يَأْتِيكَ یہاں تک کہ مجھے یقین پیدا ہو جائے اور اس کے متعلق بحث نہ الْيَقِينُ۔ فَلَا تَسْأَلُ عَنْ أَمْرِهَا فَإِنَّهُ کر کیونکہ بحث باعث مشکلات ہے اور اللہ کا غضب بہت عَسِيرٌ، وَغَضَبُ الرَّبِّ كَبِيرٌ، وَفِي كُلّ سخت ہے اور ہر طرف نالہ و فریاد ہو رہی ہے۔ در حقیقت طَرْفٍ صُرَاخُ وَزَفِيرٌ، وَلَيْسَ هُوَ مَرَضٌ طاعون بیماری نہیں بلکہ بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔ اور یہی وہ