تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 106
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ١٠٦ سورة بني اسراءيل حقیقت میں معراج ایک کشف تھا جو بڑا عظیم الشان اور صاف کشف تھا اور اتم اور اکمل تھا۔ کشف میں اس جسم کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ کشف میں جو جسم دیا جاتا ہے اس میں کسی قسم کا حجاب نہیں ہوتا بلکہ بڑی بڑی طاقتیں اس کے ساتھ ہوتی ہیں اور آپ کو اسی جسم کے ساتھ جو بڑی طاقتوں والا ہوتا ہے معراج الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۲ صفحه ۵) ہوا۔ ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوا تھا مگر اس میں جو بعض لوگوں کا عقیدہ ہے کہ وہ صرف ایک معمولی خواب تھا سو یہ عقیدہ غلط ہے اور جن لوگوں کا عقیدہ ہے کہ معراج میں آنحضرت اسی جسد عنصری کے ساتھ آسمان پر چلے گئے تھے سو یہ عقیدہ بھی غلط ہے بلکہ اصل بات اور صحیح عقیدہ یہ ہے کہ معراج کشفی رنگ میں ایک نورانی وجود کے ساتھ ہوا تھا۔ وہ ایک وجود تھا۔ مگر نورانی ۔ اور ایک بیداری تھی مگر کشفی اور نورانی جس کو اس دنیا کے لوگ نہیں سمجھ سکتے مگر وہی جن پر وہ کیفیت طاری ہوئی ہو ورنہ ظاہری جسم اور ظاہری بیداری کے ساتھ آسمان پر جانے کے واسطے تو خود یہودیوں نے معجزہ طلب کیا تھا جس کے جواب میں قرآن شریف میں کہا گیا تھا قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولًا (بنی اسرائیل : ۹۴) کہہ دے میرا رب پاک ہے میں تو ایک انسان رسول ہوں انسان اس طرح اُڑ کر کبھی آسمان پر نہیں جاتے ۔ یہی سنت اللہ قدیم سے الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۱ مورخه ۱۷ جون ۱۹۰۶ صفحه ۴) جاری ہے۔ وَقَضَيْنَا إِلى بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَ فِي الْأَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَ عُلُوًّا كَبِيرًا ♡ وَقَالَ اللهُ وَقَضَيْنَا إِلَى بَنِي إِسْرَاءِيلَ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے کتاب میں بنی اسرائیل فِي الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَ فِي الْأَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَ سے کہا کہ تم دو دفعہ زمین میں فساد کرو گے اور حد سے نکل لَتَعْلُنَ عُلُوًّا كَبِيرًا فَهَلْ أَنْتُمْ تَتَذَكَّرُونَ جاؤ گے کیا تمہیں یہ یاد ہے اور وہ دوسروں کا فساد جو خدا وَكَانَ الْمَفْسَدَةُ الْآخِرَةُ الْمُوْجِبَةُ لِغَضَبِ کے غضب کا باعث ہوا مسیح کو کافر کہنا اور اس کو سولی الرَّبِّ تَكْفِيرَ الْمَسِيحِ وَإِرَادَةَ صَلْبِهِ دینے کا ارادہ تھا۔ ( ترجمہ اصل کتاب سے ) (خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه (۲۰۲) فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ أُولهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَّنَا أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ فَجَاسُوا