تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 103 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 103

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۳ سورة بني اسراءيل الْقُدْسِيَّةِ وَالْإِفَاضَةِ الرُّوْحَانِيَّةِ كَمَا كَانَ فِي اپنے روحانی افاضہ کے ساتھ موجود نہ ہوں جیسا کہ الصَّحَابَةِ، أَعْنِي بِوَاسِطَةِ الْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ صحابہ کے اندر موجود تھے یعنی مسیح موعود کے واسطہ الَّذِي هُوَ مَظْهَرٌ لَّهُ أَوْ كَالْحُلَّةِ فَقَدْ ثَبَتَ مِنْ سے کیونکہ وہ نبی کریم کا مظہر یا آنجناب کے لئے حلہ هُذَا النَّضِ الصَّرِيحِ مِنَ الصُّحُفِ الْمُطَهَّرَةِ أَنَّ کی مانند ہے پس اس نص صریح سے ظاہر ہوا کہ مِعْرَاجَ نَبِيِّنَا كَمَا كَانَ مَكَانِيًّا كَذَالِكَ كَانَ ہمارے نبی کا معراج مکانی اور زمانی دونوں طرح زَمَانِيًّا، وَلَا يُنْكِرُهُ إِلَّا الَّذِي فَقَدَ بَصَرَةً وَصَارَ سے تھا اور اس نکتہ کا سوائے اندھے کے اور کوئی مِنَ الْعَمِينَ۔ وَلَا شَكَ وَلَا رَيْبَ أَنَّ الْمِعْرَاجَ انکار نہیں کرتا اور شک نہیں کہ اس آیت کا مفہوم الزَّمَانِي كَانَ وَاجِبًا تَحْقِيقًا لِمَفْهُوْمِ هَذِهِ الْآيَةِ واجباً معراج زمانی کو چاہتا تھا اور اگر وہ متحقق نہ ہوتا وَلَوْ لَمْ يَكُنْ لَبَطَلَ مَفْهُوْمُهَا كَمَا لَا يَخْفَى عَلَى تو اس آیت کا مفہوم باطل ہوجا تا چنانچہ اس نکتہ کو أَهْلِ الْفِكْرِ وَالدَّرَايَةِ، فَثَبَتَ مِنْ هَذَا أَنَّ اهْلِ فکر اور غور سمجھتے ہیں۔ پس یہاں سے ثابت ہوا الْمَسِيحَ الْمَوْعُودَ مَظْهَرٌ لِلْحَقِيقَةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ کمسیح موعود محمدی حقیقت کا مظہر ہے اور جلالی حلوں وَنَازِلُ فِي الْحُلَلِ الْجَلَالِيَّةِ، فَلِذَالِكَ عُدَّ ظُهُورُهُ میں نازل ہوا ہے اسی لئے خدا کے نزدیک اس کا ظہور عِنْدَ اللهِ ظُهُورَ نَبِيِّهِ الْمُصْطَفَى، وَعُدَّ زَمَانُهُ سو نبی مصطفی کا ظہور مانا گیا ہے اور اس کا زمانہ رسول کریم مُنْتَهَى الْمِعْرَاجِ الزَّمَانِي لِلرَّسُوْلِ الْمُجْتَبى کے زمانی معراج کا منتہا اور خیر الوریٰ کی روحانی وَمُنْتَهى تَجَلَى رُوْحَانِيَّةِ سَيِّدِنَا خَيْرِ انوری، تجلی کا آخری سرا شمار کیا گیا ہے اور جہان کے الْوَرَى وَكَانَ هُذَا وَعْدًا مُؤَ كَدًا مِنْ رَّبِّ الْعَالَمِينَ۔ (خطبہ الہامیه، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۲۸۹ تا ۷ ۲۹ حاشیه ) | پروردگار کا یہ پختہ وعدہ تھا ۔ ( ترجمہ اصل کتاب سے ) معراج کے لئے رات اس لئے مقرر کی گئی کہ معراج کشف کی قسم تھا۔ اور کشف اور خواب کے لئے رات موزوں ہے۔ اگر یہ بیداری کا معاملہ ہوتا تو دن موزوں ہوتا ۔ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۱۰ حاشیہ ) فَإِنَّ الْمِعْرَاجَ عَلَى الْمَذْهَبِ الصَّحِيحِ كَانَ | معراج کے بارے میں صحیح مذہب یہ ہے کہ وہ كَشْفًا لَّطِيفًا مَعَ الْيَقْظَةِ الرُّوْحَانِيَّةِ كَمَا لَا ایک لطیف کشف تھا جو روحانی بیداری کی حالت میں يَخْفَى عَلَى الْعَقْلِ الْوَهَّاجِ وَمَا صَعِدَ إِلَى ہوا جیسا کہ روشن عقل کے لئے واضح ہے۔ اور آسمان السَّمَاءِ الْأَرُوحُ سَيِّدِنَا وَنَبِيِّنَا مَعَ جِسْمٍ کی طرف صرف ہمارے آقا اور نبی صلعم کی روح