تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 101 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 101

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۱ سورة بني اسراءيل 2 عَلَى أَنَّ الْكَافِرِينَ قَدْ حُرِّمَ عَلَيْهِمْ فِي زَمَنِ حرام کی گئی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ النَّبِي عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنْ يَضُرُّوا الدِّينَ میں دین کو فریب اور حیلوں سے ضرر پہنچائیں یا بِالْمَكَائِدِ أَوْ يَأْتُوهُ كَالصَّائِلِ، وَعَصَمَ اللهُ نَبِيَّةَ شکاریوں کی طرح اس پر برس پڑیں اور خدا نے اپنے وَدِينَهُ وَبَيْتَهُ مِنْ صَوْلِ الصَّائِلِينَ وَجَوْرِ نبی کو اور اپنے دین اور اپنے گھر کو حملہ آوروں کے حملہ الْجَائِرِينَ۔ وَمَا اسْتَأْصَلَ اللهُ فِي ذَالِكَ الزَّمَنِ سے اور بیدادگروں کے بیداد سے بچائے رکھا اور اس أَعْدَاءَ الدِّينِ حَقَّ الْإِسْتِيْصَالِ، وَلكِنْ حَفِظَ زمانہ میں دین کے دشمنوں کو جیسا کہ چاہیئے تھا جڑ سے الدِّينَ مِنْ صَوْلِهِمْ وَحَرَّمَ عَلَيْهِمْ أَنْ يَغْلِبُوا نہیں اکھاڑ الیکن دین کو ان کے حملہ سے محفوظ رکھا اور عِنْدَ الْقِتَالِ فَبُدِءَ أَمْرُ تَأْبِيْدِ الدِّينِ مِنَ حرام کر دیا کہ لڑائی میں غالب رہیں۔ پس دین کی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَعْنِي مِنْ ذَبِّ اللقَامِ، ثُمَّ تائید کا امر مسجد حرام سے یعنی لیموں کے دفع کرنے يَتِمُّ هُذَا الْأَمْرُ عَلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِی سے شروع ہوا پھر یہ امر مسجد اقصیٰ پر تمام ہوگا۔ یہ وہ يَبْلُغُ فِيهِ نُورُ الدِّينِ إِلَى أَقْصَى الْمَقَامِ مسجد ہے جس میں دین کا نور اقصیٰ کے مقام تک كَالْبَدْرِ الثَّامِ، وَيَلْزَمُهُ كُلُّ بَرَكَةٍ يُتَوَقَّعُ پورے چاند کی طرح پہنچے گا اور ہر ایک برکت جو ایسے وَيُتَصَوَّرُ عِنْدَ كَمَالٍ لَّيْسَ فَوْقَهُ كَمَال کمال کے وقت میں جس کے اوپر کوئی کمال نہ ہو تصور وَهُذَا وَعْدٌ مِنَ اللهِ الْعَلامِ۔ فَكَانَ الْمَسْجِدُ میں آوے اس کے لازم حال ہوتی ہے اور یہ خدائے علیم الْحَرَامُ يُبَشِّرُ بِدَفْعِ الشَّرِ وَالْحِفْظِ مِن کا وعدہ ہے پس مسجد حرام شر کے دور ہونے اور الْمَكْرُوهَاتِ، وَأَمَّا الْمَسْجِدُ الْأَقْطَى فَيُشِيرُ مکروہات سے محفوظ رہنے کا مژدہ دیتی ہے لیکن مسجد مَفْهُومُهُ إِلى تَحْصِيلِ الْخَيْرَاتِ وَأَنْوَاعِ اقصیٰ کا مفہوم اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ الْبَرَكَاتِ وَالْوُصُولِ إِلى أَعْلَى التَّرَقِيَّاتِ، رنگ برنگ کے برکات اور خیرات اور ترقیات عالیہ فَبُدِ أَمْرُ دِينِنَا مِنْ دَفْعِ الشَّيْرِ، وَيَتِمُّ عَلَی حاصل ہوں۔ پس ہمارے دین کا امر دفع ضرر سے اسْتِعْمَالِ الْخَيْرِ وَإِنَّ فِيهِ آيَاتٍ شروع ہوا اور خیر کی تکمیل پر تمام ہوگا اور اس بیان میں لِلْمُتَدَبِرِينَ ثُمَّ إِنَّ ايَةَ الإِسْرَاءِ تَدُلُّ عَلى غور کرنے والوں کے لئے نشان ہیں۔ پھر اسرٹی کی لكتةٍ وَجَبَ ذِكْرُهَا لِلْأَصْدِقَاءِ لِيَزْدَادُوا آیت ایک عجیب نکتہ رکھتی ہے کہ اس کا ذکر عِلْمًا وَيَقِيْنَا، وَإِنَّ خَيْرَ الْأَمْوَالِ الْعِلْمُ دوستوں کے لئے ضروری ہے تا علم اور یقیر تا در بین زیادہ ہو