تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 99 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 99

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۹ سورة بني اسراءيل غرض اس زمانہ کا نام جس میں ہم ہیں زمان البرکات ہے لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ زمان التائیدات اور دفع الآفات تھا اور اُس زمانہ میں خدا تعالیٰ کا بھاری مقصد دفع شر تھا۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے اُس زمانہ میں اسلام کو اپنے قومی ہاتھ سے دشمنوں سے بچایا اور دشمنوں کو یوں ہانک دیا جیسا کہ ایک مرد مضبوط اپنی لاٹھی سے کتوں کو ہانک دیتا ہے۔ پس چونکہ مسیح اور مہدی موعود کا زمانہ زمان البرکات تھا اسی لئے خدا تعالیٰ نے اس کے حق میں فرمایا برکنا حوله یعنی مسیح موعود کی فرودگاہ کے ارد گرد جہاں نظر ڈالو گے ہر طرف سے برکتیں نظر آئیں گی چنانچہ تم دیکھتے ہو کہ زمین کیسی آباد ہوگئی باغ کیسے بکثرت ہو گئے نہریں کیسی بکثرت جاری ہو گئیں تمدنی آرام کی چیزیں کیسی کثرت سے موجود ہو گئیں ۔ پس یہ زمینی برکات ہیں۔ اور جیسے اس زمانہ میں زمینی اور آسمانی برکتیں بکثرت ظاہر ہو گئی ہیں ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تائیدات کا بھی ایک دریا چل رہا تھا۔ فَحَاصِلُ الْبَيَانِ أَنَّ الزَّمَانَ زَمَانَانِ خلاصہ بیان یہ ہے کہ زمانہ کے دوحصے ہیں (۱) زَمَانُ التَّائِيدَاتِ وَدَفْعُ الْأَفَاتِ وَ زَمَانُ تائیدات اور آفات کے دور کرنے کا زمانہ (۲) برکات اور الْبَرَكَاتِ وَالطَّيِّبَاتِ وَإِلَيْهِ أَشَارَ عَزَّ پاکیزہ تعلیمات کے پھیلانے کا زمانہ۔ اس کی طرف اسْمُهُ بِقَوْلِهِ سُبْحَنَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ خداوند تعالیٰ نے اپنے قول سُبْحَنَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَا لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَا الَّذِي الَّذِي بُرَكْنَا حَوْلَهُ فَاعْلَمْ أَنَّ لَفَظَ الْمَسْجِدِ بُرَكْنَا حَوْلَهُ میں اشارہ فرمایا ہے سو جاننا چاہیے کہ المسجد الْحَرَامِ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى يَدُلُّ عَلَى زَمَانٍ فِيهِ الحرام کا لفظ اس آیت میں اس زمانہ پر دلالت کرتا ہے جس ظَهَرَتْ عِزَّةُ حُرُمَاتِ اللهِ بِتَائِيدِ مِنَ الله میں اللہ تعالیٰ کی محرمات کی عزت و احترام اللہ کی تائید وَظَهَرَتْ عِزَّةُ حُدُودِهِ وَأَحْكَامِهِ وَ سے ظاہر ہوئی اور اس کے مقرر کردہ حدود، احکام اور فرائض فَرَائِضِهِ وَتَرَاءَتْ شَوْكَةُ دِينِهِ وَرُعْبُ کا جلال ظاہر ہوا اور اس کے دین کی شوکت اور اس کی ملت مِلَّتِهِ وَهُوَ زَمَانُ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کا رعب صاف نظر آگیا اور یہ زمانہ ہمارے نبی صلی اللہ وَسَلَّمَ وَالْمَسْجِدُ الْحَرَامُ الْبَيْتُ الَّذِي علیہ وسلم کا زمانہ ہے۔ اور الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ و وہ گھر ہے جس کو بَنَاهُ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي مَكَّةَ وَهُوَ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ شریف میں تعمیر کیا اور وہ لله ہے۔ مَوْجُودٌ إِلَى هَذَا الْوَقْتِ حَرَسَهُ اللهُ مِنْ اس وقت تک موجود ہے اللہ تعالیٰ اسے ہر آفت سے محفوظ