تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 90 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 90

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۰ سورة النحل کسی قدر سختی مصلحت آمیز اس غرض سے ہم نے اختیار کی کہ تا قوم اس طرح سے اپنا معاوضہ ! ضہ پا کر وحشیانہ جوش کو دبائے رکھے اور یہ سختی نہ کسی نفسانی جوش سے اور نہ کسی اشتعال سے بلکہ محض آیت وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ احسن پر عمل کر کے ایک حکمت عملی کے طور پر استعمال میں لائی گئی اور وہ بھی اس وقت کہ مخالفوں کی تو ہین اور تحقیر اور بد زبانی انتہا تک پہنچ گئی اور ہمارے سید و مولی سرور کائنات فخر موجودات کی نسبت ایسے گندے اور عملی کو برتا۔ پر شر الفاظ ان لوگوں نے استعمال کئے کہ قریب تھا کہ ان سے نقص امن پیدا ہو تو اس وقت ہم نے اس حکمت البلاغ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۳۸۵) پسندیدہ پیرا یہ میں ہو۔ جب تو عیسائیوں سے مذہبی بحث کرے تو حکیمانہ طور پر معقول دلائل کے ساتھ کر اور چاہئے کہ تیرا وعظ البلاغ ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۳۹۱) ( اس آیت سے ) یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہمیشہ کے لئے جب تک اسلام پر حملے کرنے والے حملے کرتے رہیں اس طرف سے بھی سلسلہ مدافعت جاری رہنا چاہئے ۔ البلاغ ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه (۴۱۲) جب تو کسی عیسائی معلم کے ساتھ بحث کرے تو حکمت اور نیک نصیحتوں کے ساتھ بحث کر جو نرمی اور تہذیب سے ہو۔ ہاں یہ سچ ہے کہ بہتیرے اس زمانہ کے جاہل اور نادان مولوی اپنی حماقت سے یہی خیال رکھتے ہیں کہ جہاد اور تلوار سے دین کو پھیلانا نہایت ثواب کی بات ہے اور وہ پردہ اور نفاق سے زندگی بسر کرتے ہیں لیکن وہ ایسے خیال میں سخت غلطی پر ہی اور ان کی غلط فہمی سے الہی کتاب پر الزام نہیں آ سکتا ۔ واقعی سچائیاں اور حقیقی صداقتیں کسی جبر کی محتاج نہیں ہوتیں بلکہ جبر اس بات پر دلیل ٹھہرتا ہے کہ روحانی دلائل کمزور ہیں ۔ کیا وہ خدا جس نے اپنے پاک رسول پر یہ وحی نازل کی کہ فَاصْبِرُ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ (الاحقاف : ۳۶) یعنی تو ایسا صبر کر کہ جو تمام اولو العزم رسولوں کے صبر کے برابر ہو یعنی اگر تمام نبیوں کا صبر اکٹھا کر دیا جائے تو وہ تیرے صبر سے زیادہ نہ ہو۔ اور پھر فرمایا کہ لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقرة : ۲۵۷) یعنی دین میں جبر نہیں چاہیے ۔ اور پھر فرمایا کہ اُدْعُ إِلى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلُهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ یعنی عیسائیوں کے ساتھ حکمت اور نیک وعظوں کے ساتھ مباحثہ کر نہ سختی سے۔ اور پھر فرمایا وَ الْكَظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ( ال عمران : ۱۳۵) یعنی مومن وہی ہیں جو غصہ کو کھا جاتے ہیں اور یا وہ گو اور ظالم طبع لوگوں کے حملوں کو معاف کر دیتے ہیں اور بیہودگی کا بیہودگی سے جواب نہیں دیتے۔ کیا ایسا خدا یہ تعلیم دے سکتا تھا کہ تم اپنے دین کے منکروں کو قتل کر دو اور ان کے مال لوٹ لو اور ان کے