تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 88
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۸ سورة النحل زبردستی ہوتی ہے۔ پھر خدا کی راہ میں بہت ہی کوشش کریں اور تکلیفوں پر صبر کریں۔ ان سب باتوں کے بعد خدا ان کا گناہ بخش دے گا کیونکہ وہ غفور و رحیم ہے۔ ( نور القرآن نمبر ۲ ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۱۲) إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغِ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ۔ ج دیکھو سود کس قدر سنگین گناہ ہے کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں سور کا کھانا تو بحالت اضطرار جائز رکھا ہے چنانچہ فرماتا ہے فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغِ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ( البقرۃ : ۱۷۴ ) یعنی جو شخص باغی نہ ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا تو اس پر کوئی گناہ نہیں اللہ غفور رحیم ہے مگر سود کے د غفور رحیم ہے مگر سود کے لئے نہیں فرمایا کہ بحالت اضطرار جائز ہے بلکہ اس کے لئے تو ارشاد ہے يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الربوا إِنْ كُنْتُم مُّؤْمِنِينَ ، فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأَذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللهِ وَ رَسُولِهِ ( البقرة : ۲۷۹ ، ۲۸۰) اگر سود کے لین دین سے باز نہ آؤ گے تو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کا اعلان ہے۔ ہمارا تو یہ مذہب ہے کہ جو خدا تعالیٰ پر توکل کرتا ہے اسے حاجت ہی نہیں پڑتی۔ مسلمان اگر اس ابتلاء میں ہیں تو یہ ان کی اپنی ہی بد عملیوں کا نتیجہ ہے ہندو اگر یہ گناہ کرتے ہیں تو مالدار ہو جاتے ہیں مسلمان یہ گناہ کرتے ہیں تو تباہ ہو جاتے ہیں خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ ( الحج : ۱۲) کے مصداق ۔ پس کیا ضروری نہیں کہ مسلمان اس سے باز آئیں ۔ ( بدر جلدے نمبر ۵ مورخه ۶ رفروری ۱۹۰۸ ء صفحه ۶ ) وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ الْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هُذَا حَلْلٌ وَ هُذَا حَرَامٌ لِتَفْتَرُوا عَلَى اللهِ الْكَذِبَ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ ) یا د رکھو کہ دین میں صرف قیاس کرنا سخت منع ہے۔ قیاس وہ جائز ہے جو قرآن وحدیث سے مستنبط ہو۔ ہمارا دین منقولی طور سے ہمارے پاس پہنچا ہے۔ پس اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ایسی حدیث ثابت ہو جائے تو خیر ورنہ کیا ضرورت ہے دو چار آنے کے لئے ایمان میں خلل ڈالنے کی ۔ لا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ الْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هُذَا حَلْلٌ وَهُذَا حَرَامٌ - ( بدر جلدے نمبر ۱۹ ، ۲۰ مورخه ۲۴ رمئی ۱۹۰۸ء صفحه (۴)