تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 411 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 411

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لد اا سورة يوسف خدا تعالیٰ کی سنن کے ماتحت پوری ہو جاتی ہیں تاہم اگر وہ سمجھ میں نہ بھی آئیں تو مومن اور خدا ترس انسان کا کام یہ ہونا چاہیے کہ وہ ان پیشگوئیوں پر نظر کرے جس میں دقائق نہیں یعنی جو موٹی موٹی پیشگوئیاں ہیں ۔ پھر دیکھے کہ وہ کس قدر تعداد میں پوری ہو چکی ہیں۔ یونہی منہ سے انکار کر دینا تقویٰ کے خلاف ہے۔ دیانت اور خدا ترسی سے ان پیشگوئیوں کو دیکھنا چاہیے جو پوری ہو چکی ہیں۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۲ مورخه ۷ ار ستمبر ۱۹۰۶ صفحه ۲) لَقَدْ كَانَ فِي قَصَصِهِمْ عِبْرَةً لِأُولِي الْأَلْبَابِ مَا كَانَ حَدِيثًا يُفْتَرَى وَلَكِنْ تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَ تَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ وَ هُدًى وَ رَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ قرآن ایسی کتاب نہیں کہ انسان اس کو بنا سکے بلکہ اس کے آثارِ صدق ظاہر ہیں کیونکہ وہ پہلی کتابوں کو سچا کرتا ہے یعنی کتب سابقہ انبیاء میں جو اس کے بارہ میں پیشین گوئیں موجود تھیں وہ اس کے ظہور سے بہ پایہ ، صداقت پہنچ گئیں اور جن عقائد حقہ کے بارہ میں ان کتابوں میں دلائل واضح موجود نہ تھیں ان کے قرآن نے دلائل بتلائے اور ان کی تعلیم کو مرتبہ کمال تک پہنچایا ۔ اس طور پر ان کتابوں کو سچا کیا جس سے خود سچائی اس کی ثابت ہوتی ہے۔ دوسرے نشانِ صدق یہ کہ ہر یک صداقت دینی کو وہ بیان کرتا ہے اور تمام وہ امور بتلاتا ہے کہ جو ہدایت کامل پانے کے لئے ضروری ہیں اور یہ اس لئے نشانِ صدق ٹھہرا کہ انسان کی طاقت سے یہ بات باہر ہے کہ اس کا علم ایسا وسیع ومحیط ہو جس سے کوئی دینی صداقت و حقا و حقائق دقیقه باہر نہ رہیں ۔ ( براہین احمد یہ چہار تخصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۲۲۶ حاشیہ نمبر ۱۱)