تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 400 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 400

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لد ۔۔ مگر وہ باتوں سے اس کو بچا لیتا ہے الا مَا رَحِمَ رَبِّی کے یہی معنے ہیں ۔ سورة يوسف الحکم جلدے نمبر ۲۹ مورخه ۱۰ را گست ۱۹۰۳ صفحه ۲۰) نفس کو تین قسم پر تقسیم کیا ہے۔ نفس امارہ نفس لوامہ نفس مطمئنہ ، ایک نفس زکیہ بھی ہوتا ہے مگر وہ بچپن کی حالت ہے جب گناہ ہوتا ہی نہیں ۔ اس لئے اس نفس کو چھوڑ کر بلوغ کے بعد تین نفسوں ہی کی بحث کی ہے۔ نفس امارہ کی وہ حالت ہے جب انسان شیطان اور نفس کا بندہ ہوتا ہے اور نفسانی خواہشوں کا غلام اور اسیر ہو جاتا ہے۔ جو حکم نفس کرتا ہے اس کی تعمیل کے واسطے اس طرح طیار ہو جاتا ہے جیسے ایک غلام دست بستہ اپنے مالک کے حکم کی تعمیل کے لئے مستعد ہوتا ہے۔ اس وقت یہ نفس کا غلام ہو کر جو وہ کہے یہ کرتا ہے۔ وہ کہے خون کر تو یہ کرتا ہے۔ زنا کہے، چوری کہے ، غرض جو کچھ بھی کہے سب کے لئے طیار ہوتا ہے۔ کوئی بدی کوئی برا ہے کام ہو جو نفس کہے یہ غلاموں کی طرح کر دیتا ہے۔ یہ نفس امارہ کی حالت ہے۔ اور یہ شخص ہے جو نفس امارہ کا تابع ہے۔ اس کے بعد نفس لوامہ ہے۔ یہ ایسی حالت ہے کہ گناہ تو اس سے بھی سرزد ہوتے رہتے ہیں مگر وہ نفس کو ملامت بھی کرتا رہتا ہے اور اس تدبیر اور کوشش میں لگارہتا ہے کہ اسے گناہ سے نجات مل جائے ۔ جولوگ نفس لوامہ کے ماتحت یا اس حالت میں ہوتے ہیں وہ ایک جنگ کی حالت میں ہوتے ہیں یعنی شیطان اور نفس سے جنگ کرتے رہتے ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ نفس غالب آ کر لغزش ہو جاتی ہے اور کبھی خود نفس پر غالب آجاتے اور اس کو دبا لیتے ہیں یہ لوگ نفس امارہ والوں سے ترقی کر جاتے ہیں۔ نفس امارہ والے انسان اور دوسرے بہائم میں کوئی فرق نہیں ہوتا جیسے کتا یا بلی جب کوئی برتن ننگا دیکھتے ہیں تو فوراً جا پڑتے ہیں اور تو فوراجا ہڑتے ہیں اور نہیں دیکھتے کہ وہ چیز ان کا حق ہے یا نہیں۔ اسی طرح پر نفس امارہ کے غلام انسان کو جب کسی بدی کا موقع ملتا ہے تو فوراً اسے کر بیٹھتا ہے اور طیار رہتا ہے اگر راستہ میں دو چار روپے پڑے ہوں تو فی الفوران کے اٹھانے کو طیار ہو جاوے گا اور نہیں سوچے گا کہ اس کو ان کے ۔ سوچے گا کہ اس کو ان کے لینے کا حق ہے یا نہیں مگر لوامہ والے کی یہ حالت نہیں وہ حالت جنگ میں ہے جس میں کبھی نفس غالب کبھی وہ، ابھی کامل فتح نہیں ہوئی مگر تیسری حالت جو نفس مطمئنہ حالت ہے یہ وہ حالت ہے جب ساری لڑائیوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور کامل فتح ہو جاتی ہے اسی لئے اس کا نام نفس مطمئنہ رکھا ہے یعنی اطمینان یافتہ ، اس وقت وہ اللہ تعالیٰ کے وجود پر سچا ایمان لاتا ہے اور یقین کرتا ہے کہ واقعی خدا ہے۔ نفس مطمئنہ کی انتہائی حد خدا پر ایمان ہوتا ہے کیونکہ کامل اطمینان اور تسلی اسی وقت ملتی کی