تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 396
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نه از چینم حکایت کن نه از روم ۳۹۶ سورة يوسف که دارم دلستانے اندریں بوم چو روئے خوب او آید بیادم فراموشم شود موجود و معدوم از تو بخشایش تو میخواهم اور پھر ایک اور جگہ فرماتے ہیں۔ تا با تو مشغول و با تو ہم اہم مرا از تو آگهی دادند و بوجودت گر از کود آگاهم ) مکتوبات احمد جلد اول صفحه ۵۹۳، ۵۹۴) اور خود وہ محویت کا ہی اثر تھا جس سے زلیخا کی سہیلیوں نے اپنی انگلیاں کاٹ لیں۔ قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَى مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ ۚ وَ إِلَّا تَصْرِفْ عَنِّي كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُنُ مِنَ الْجِهِلِينَ ) رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ یعنی اے میرے رب مجھے تو قید بہتر ہے ان باتوں سے کہ یہ عورتیں مجھ سے خواہش کرتی ہیں۔ خلاصہ مطلب یہ کہ اگر کوئی عورت ایسی خواہش کرے تو میں اپنے نفس کے بن یعقوب علیہما السلام کی دعا تھی جس دعا کی وجہ سے لئے اس امر سے قید ہونا زیادہ پسند کرتا ہوں ۔ پسند کرتا ہوں ۔ یہ یوسف بن ! وہ قید ہو گئے ۔ ا۔ ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۱ ۲ صفحه ۹۸، ۹۹) نظائر سے مسائل بہت جلد حل ہو جاتے ہیں اگر گذشتہ زمانہ میں اس کی نظیر دیکھی جاوے تو پھر یوسف کا صدق ہے ایسا صدق دکھایا کہ یوسف صدیق کہلایا۔ ایک خوبصورت معزز اور جوان عورت جو بڑے بڑے دعوے کرتی ہے۔ عین تنہائی اور تخلیہ میں ارتکاب فعل بد چاہتی ہے لیکن آفرین ہے اس صدیق پر کہ خدا تعالیٰ کے حدود کو توڑنا پسند نہ کیا اور اس ۔ نہ کیا اور اس کے بالمقابل ہر قسم کی آفت اور دکھ اُٹھا۔ ٹھانے کو آمادہ ہو گیا یہاں تک کہ قیدی کی زندگی بسر کرنی منظور کر لی ۔ چنانچہ کہا: رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَى مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ یعنی یوسف علیہ السلام نے دعا کی کہ اے رب مجھ کو قید پسند ہے اس بات سے جس کی طرف وہ مجھے بلاتی ہیں ۔ اس سے حضرت یوسف کی پاک فطرت اور غیرت نبوت کا کیسا پتہ لگتا ہے کہ دوسرے امر کا ذکر تک نہیں کیا۔ کیا مطلب کہ اس کا نام نہیں لیا۔ یوسف اللہ تعالیٰ کے حسن واحسان کے گرویدہ اور عاشق زار تھے۔ ان کی نظر میں اپنے محبوب کے سوا دوسری کوئی بات بچ سکتی نہ تھی ۔ وہ ہرگز پسند نہ کرتے تھے کہ حدود اللہ کو توڑیں۔