تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 387
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۷ سورة هود کے رو سے بڑی بھاری ذمہ داری میرے سپرد ہوئی ہے۔ اپنے آپ کو سیدھا کرنا اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی پوری فرماں برداری جہاں تک انسان کی اپنی ذات سے تعلق رکھتی ہے ممکن ہے کہ وہ اس کو پورا کرے۔ لیکن دوسروں کو ویسا ہی بنانا آسان نہیں ہے اس سے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بلند شان اور قوت قدسی کا پتہ لگتا ہے۔ چنانچہ آپ نے اس حکم کی کیسی تعمیل کی صحابہ کرام کی وہ پاک جماعت تیار کی کہ ان کو كُنتُم خَيْرَ أمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (ال عمران : کہا (11) ۱۱۱) گیا اور رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ (المائدة : کی ۱۲۰) آواز ان کو آگئی ۔ آپ کی زندگی میں کوئی بھی منافق مدینہ طیبہ میں نہ رہا۔ غرض ایسی کامیابی آپ کو ہوئی کہ اس کی نظیر کسی دوسرے نبی کے واقعات زندگی میں نہیں ملتی ۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی غرض یہ تھی کہ قیل و قال ہی تک بات نہ رکھنی چاہیے کیونکہ اگر نرے قیل و قال اور ریا کاری تک ہی بات ہو تو دوسرے لوگوں اور ہم میں پھر امتیاز کیا ہوگا اور دوسروں پر کیا شرف؟ الحکم جلد ۵ نمبر ۲۹ مورخه ۱۰ راگست ۱۹۰۱ صفحه ۱) استقامت کے حصول کے لئے اولاً ابتدائی مدارج اور مراتب پر کسی قدر تکالیف اور مشکلات بھی پیش آتی ہیں لیکن اس کے حاصل ہو جانے پر ایک دائمی راحت اور خوشی پیدا ہو جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ ارشاد ہوا : فَاسْتَقِمْ كَما اُمِرْتَ تو لکھا ہے کہ آپ کے کوئی سفید بال نہ تھا پھر سفید بال آنے لگے تو آپ نے فرمایا مجھے سورہ ہود نے بوڑھا کر دیا۔ غرض یہ ہے کہ جب تک انسان موت احساس نہ کرے وہ نیکیوں کی طرف جھک نہیں سکتا۔ ریویو آف ریلیجنز جلد ۳ نمبر ۱ صفحه ۱۱،۱۰) وَ أَقِمِ الصَّلوةَ طَرَفِي النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ الَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ السَّيَّاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ نجات کا مفت ملنا اور اعمال کو غیر ضروری ٹھہرانا جو عیسائیوں کا خیال ہے یہ ان کی سراسر غلطی ہے۔ ان کے فرضی خدا نے بھی چالیس روزے رکھے تھے اور موسیٰ نے کوہ سینا پر روزے رکھے۔ پس اگر اعمال کچھ چیز نہیں ہیں تو یہ دونوں بزرگ اس بے ہودہ کام میں کیوں پڑے۔ جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالی بدی سے سخت بیزار ہے تو ہمیں اس سے سمجھ آتا ہے کہ وہ نیکی کرنے سے نہایت درجہ خوش ہوتا ہے پس اس صورت میں نیکی بدی کا کفارہ ٹھہرتی ہے۔ اور جب ایک انسان بدی کرنے کے بعد ایسی نیکی بجالا یا جس سے خدا تعالیٰ خوش ہوا تو ضرور ہے کہ پہلی بات موقوف ہو کر دوسری بات قائم ہو جائے ورنہ خلاف عدل ہوگا۔ اسی