تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 385
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۵ سورة هود قادر ہے لیکن بہشتیوں کے لئے ایسا نہیں فرمایا کیونکہ وہ وعدہ ہے وعید نہیں ہے۔ (حقیقة الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۹۶) قرآن شریف میں کفار اور مشرکین کی سزا کے لئے بار بار ابدی جہنم کا ذکر ہے اور بار بار فرمایا ہے: خُلِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ( النساء : ۵۸) اور پھر باوجود اس کے قرآن شریف میں دوزخیوں کے حق میں : الا ما شَاءَ ربک بھی موجود ہے اور حدیث میں بھی ہے کہ يَأْتِي عَلى جَهَنَّمَ زَمَانٌ لَّيْسَ فِيهَا أَحَدٌ وَ نَسِيمُ الصَّبَا تُحَرِّكُ أَبوابها یعنی جہنم پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اس میں کوئی بھی نہ ہوگا ورنسیم صبا اس کے کواڑوں کو ہلائے گی اور بعض کتب میں زبان پارسی میں یہ حدیث لکھی ہے : اس مشت خاک را گر نہ بخشم چه کنم ۔ ( حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۹۶ حاشیه ) قرآن شریف ریف نے بہشت کے انعامات کا تذکرہ کر کے عَطَاء غَيْرَ مَجدُ وذ کہہ دیا ہے اور ہونا بھی ایسے ہی چاہیے تھا کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو امید نہ رہتی اور مایوسی پیدا ہوتی ۔ بہشت کے انعامات کی بے انتہا درازی کو دیکھ کر مسرت بڑھتی ہے اور دوزخ کے ایک متعین عرصہ تک ہونے سے خدا تعالیٰ کے فضل پر امید پیدا ہوتی ہے۔ ایک شاعر نے اس کو یوں بیان کیا ہے۔ گویند که بحشر جستجو خواهد بود واں یار عزیز تند خو خواهد بود از خیر محض شرے نیاید هرگز خوش باش که انجام بخیر خواهد بود الحکم جلد ۵ نمبر ۱۹ مورخه ۲۴ رمئی ۱۹۰۱ ء صفحه (۳) وَ أَمَّا الَّذِينَ سُعِدُوا فَفِي الْجَنَّةِ خَلِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّمَاتُ وَالْأَرْضُ إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ عَطَاء غَيْرَ مَجْدُودٍ سعید لوگ مرنے کے بعد بہشت میں داخل کئے جاتے ہیں اور ہمیشہ اس میں رہیں گے جب تک کہ آسمان وزمین ہے اور اگر یہ آسمان اور زمین بدلائے بھی جائیں جیسا کہ قیامت کے آنے کے وقت ہو گا تب بھی سعید لوگ بہشت سے باہر نہیں ہو سکتے اور نہ ان چیزوں کے فساد سے بہشت میں کچھ فساد ہو سکتا ہے