تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 378
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۸ يُخْزِيهِ وَمَنْ هُوَ كَاذِبٌ وَارْتَقِبُوا إِنِّي مَعَكُمْ رَقِيبٌ سورة هود اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِل کہ اگر تم لوگوں پر میرا سچا ہونا مشتبہ ہے تو تم بھی اپنی اپنی جگہ عمل کرو میں بھی کرتا ہوں انجام پر دیکھ لینا کہ خدا کی تائید اور نصرت کس کے شامل حال ہے۔ جوامر خدا کی طرف سے ہو گا وہ بہر حال غالب ہوکر رہے گا۔ البدر جلد ۴ نمبر ۶ مورخه ۱۸ رفروری ۱۹۰۵ و صفحه (۴) تم اپنی جگہ اپنا کام کرو میں اپنا کام کرتا ہوں عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ سچا کون ہے۔ البدر جلد نمبر ۳۶ مورخه ۱۷ نومبر ۱۹۰۵ ء صفحه ۵) يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدُ ایسا شخص جور بانی فیض کے رنگ سے کم حصہ رکھتا ہے اسی کو قرآنی اصطلاح میں شقی کہتے ہیں اور جس نے کافی حصہ لیا اس کا نام سعید ہے۔ خدا تعالیٰ نے اپنی پاک کلام میں مخلوقات کو سعادت اور شقاوت کے دو حصوں پر سیم پر تقسیم کر دیا ہے مگر ان کو حسن اور فتح کے دو حصوں پر تقسیم نہیں کیا۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ جو خدا نہ تعالیٰ سے صادر ہوا اس کو برا تو نہیں کہہ سکتے کیونکہ اس نے جو کچھ بنایا وہ سب اچھا ہے۔ ہاں اچھوں میں مراتب ہیں ۔ پس جو شخص اچھا ہونے کے رنگ میں نہایت ہی کم حصہ رہ میں نہایت ہی کم حصہ رکھتا ہے وہ حکمی طور حکمی طور پر برا ہے اور حقیقی طور پر کوئی بھی برا نہیں ۔ ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۱۳۸ حاشیه ) فَالَّذِي لَمْ يُعْطِهِ الْقَسَامُ ذَرَّةَ مُنَاسَبَةٍ جس شخص کو قسم ازل نے اولیاء اور اصفیاء کے ساتھ بِالْأَوْلِيَاء وَالْأَصْفِيَاءِ ، فَهَذَا الْحِرْمَانُ هُوَ تھوڑی سی مناسبت بھی نہ دی ہو تو یہ وہ محرومی ہے جسے الَّذِي يُعْبَرُ بِالشَّقْوَةِ وَالشَّقَاوَةِ عِنْدَ حَضْرَةِ حضرت کبریا کے نزدیک شقوت اور شقاوت سے تعبیر الْكِبْرِيَاء وَالسَّعِيدُ الْأَتَةُ الْأَكْمَلُ هُوَ کیا جاتا ہے اور کامل سعید وہ ہے جس نے محبوب کی الَّذِي أَحَاطَ عَادَاتِ الْحَبِيْبِ حَتَّى ضَاهَاهُ عادات کا احاطہ کر لیا ہو یہاں تک کہ وہ الفاظ ،کلمات فِي الْأَلْفَاظِ وَالْكَلِمَاتِ وَالْأَسَالِيبِ اور اسالیب میں اپنے محبوب کے مشابہ ہو گیا ہو۔ اور وَالْأَشْقِيَاءُ لَا يَفْهُونَ هَذَا الْكَمَالَ اشقیاء ایسے کمال کو نہیں سمجھ سکتے ۔ جیسے شکور رنگوں اور كَالْأَكُمَهِ الَّذِي لَا يَرَى الْأَلْوَانَ وَالْأَشْكَالَ، شکلوں کو نہیں دیکھ سکتا۔ اور شقی کو بجر عظمت الہی اور لے غالباً سہو کتابت ہے صحیح لفظ شاید يَفهَمُونَ ہو۔ واللہ اعلم بالصواب