تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 363
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۳ سورة يونس عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا وَ مَتَّعُنْهُمْ إِلَى حِينٍ 99 فَالْحَاصِلُ أَنَّ قِصَّةً يُونُسَ فِي پس خلاصہ یہ ہے کہ خدائے قادر کے کلام میں یونس علیہ السلام كَلَامِ اللهِ الْقَدِيرِ، دَلِيلٌ عَلَى أَنَّهُ قَدْ کا قصہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کبھی اللہ تعالیٰ کا عذاب کسی ایسی يُؤَخِّرُ عَذَابُ اللَّهِ مِنْ غَيْرِ شَرط شرط کے بغیر بھی جو تاخیر کے حکم کا موجب بن سکے تاخیر میں ڈال يُوجِبُ حُكْمَ التَّأْخِيرِ، كَمَا أُخِرَ في دیا جاتا ہے جیسا کہ یونس علیہ السلام کی پیشگوئی میں عذاب الہی کو نَبَأَ يُونُسَ بَعْدَ التَّشْهِيْرِ با وجود تشہیر کے ڈال دیا گیا۔ (ترجمہ از مرتب ) انجام آتھم ، روحانی خزائن جلد ا ا صفحه ۲۲۶) وَ لَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَنْ فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا أَفَأَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ ۔ ہمیں خدا تعالیٰ نے قرآن میں یہ بھی تعلیم دی ہے کہ دین اسلام میں اکراہ اور جبر نہیں ۔۔۔۔ جیسا کہ فرماتا ہے : أَفَانتَ تُكْرِهُ النَّاسَ - ( کتاب البریه، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۳۱۹)