تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 361 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 361

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس میں روشنی نہیں بلکہ تاریکی ہے۔ ۳۶۱ سورة يونس الحکم جلدے نمبر ۱۹ مورخہ ۲۴ رمئی ۱۹۰۳ء صفحہ (۲) ان کے واسطے اسی دنیوی زندگی میں بشارتیں نازل ہوتی ہیں اور قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں کہ وہی ہمارا رب ہے اور پھر اس ایمان پر استقامت دکھلاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر فرشتے نازل کرتا ہے جو ان کو تشفی دیتے ہیں کہ تم کو کوئی غم اور حزن نہیں پہنچے گا خدا تعالیٰ کی شناخت کے واسطے یہ ایک بڑا طریق ہے کہ نشانات کا مشاہدہ کرایا جاوے۔ جب ایک سلسلہ نشانات اور کرامات کو مدت در از گزر جاتی ہے تو لوگ دہر یہ مزاج ہو جاتے ہیں اور بیہودہ باتیں بناتے ہیں۔ ( بدر جلد ۶ نمبر ۳ موخه ۱۷ جنوری ۱۹۰۷ صفحه ۱۲ ) اگر قرآن کے خطابات صحابہ تک ہی محدود ہوتے تو صحابہ کے فوت ہو جانے کے ساتھ قرآن باطل ہو جاتا اور آیت متنازعہ فیہا جو خلافت کے متعلق ہے در حقیقت اس آیت سے مشابہ ہے : لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيُوةِ الدنیا ۔ کیا یہ بشری صحابہ سے ہی خاص تھا یا کسی اور کو بھی اس سے حصہ ہے۔ ( شہادت القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۳۵) ان کے واسطے اسی دنیوی زندگی میں بشارتیں نازل ہوتی ہیں ۔ یہ مومنوں کا ایک خاصہ ہے کہ یہ نسبت دوسروں کے ان کی خواہیں سچی نکلتی ہیں۔ ( کلمه طیبه صفحه ۲۸) مکتوبات احمد جلد اول صفحه ۳۴۰) جو لوگ قرآن شریف پر ایمان لائیں گے ان کو مبشر خوا ہیں اور الہام دیئے جائیں گے یعنی بکثرت دیئے جائیں گے ورنہ شاذ و نادر کے طور پر کسی دوسرے کو بھی کوئی سچی خواب آسکتی ہے مگر ایک قطرہ کو ایک دریا کے ساتھ کچھ نسبت نہیں اور ایک پیسہ کو ایک خزانہ سے کچھ مشابہت نہیں ۔۔۔۔۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ قدیم سے خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہوتا چلا آتا ہے اور اس زمانہ میں ہم خود اس کے شاہد رویت ہیں۔ چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۱۰) ایمانداروں کو خدا کی طرف سے بشارتیں ملتی رہتی ہیں۔ ایسا ہی وہ بھی اپنی ذات کے متعلق کئی قسم کی بشارتیں پاتا رہتا ہے اور جیسے جیسے بذریعہ ان بشارتوں کے اس کا ایمان قوی ہوتا جاتا ہے ویسے ویسے وہ گناہ سے پر ہیز کرتا اور نیکیوں کی طرف حرکت کرتا ہے۔ چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۲۴) لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَتِ اللهِ ۔۔۔۔۔۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے ۔ مجموعه اشتہارات جلد اول صفحه ۱۳۷ )