تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 347
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۷ سورة يونس فرقوں اور تمام جہان کے لوگوں کو جو شرک میں ڈوبے ہوئے تھے مخالف بنالیا۔ جو اپنے اور خویش تھے ان کو بت پرستی سے منع کر کے سب سے پہلے دشمن بنایا۔ یہودیوں سے بھی بات بگاڑ لی کیونکہ ان کو طرح طرح کی مخلوق پرستی اور پیر پرستی اور بداعمالیوں سے روکا۔ حضرت مسیح کی تکذیب اور تو ہین سے منع کیا جس سے ان کا نہایت دل جل گیا اور سخت عداوت پر آمادہ ہو گئے اور ہر دم قتل کر دینے کی گھات میں رہنے لگے۔ اسی طرح عیسائیوں کو بھی خفا کر دیا گیا کیونکہ جیسا کہ ان کا اعتقاد تھا۔ حضرت عیسیٰ کو نہ خدا نہ خدا کا بیٹا قرار دیا اور نہ ان کو کونہ نہ کا پھانسی مل کر دوسروں کو بچانے والا تسلیم کیا۔ آتش پرست اور ستارہ پرست بھی ناراض ہو گئے کیونکہ ان کو بھی ان کے دیوتوں کی پرستش سے ممانعت کی گئی اور مدار نجات کا صرف توحید ٹھہرائی گئی ۔ اب جائے انصاف ہے کہ کیا دنیا حاصل کرنے کی یہی تدبیر تھی کہ ہر ایک فرقہ کو ایسی ایسی صاف اور دلآزار باتیں سنائی گئیں کہ جس سے سب نے مخالفت پر کمر باندھ لی اور سب کے دل ٹوٹ گئے اور قبل اس کے کہ اپنی کچھ ذرہ بھی جمعیت بنی ہوتی یا کسی کا حملہ روکنے کے لئے کچھ طاقت بہم پہنچ جاتی سب کی طبیعت کو ایسا اشتعال دے دیا کہ جس سے وہ خون کرنے کے پیاسے ہو گئے۔ زمانہ سازی کی تدبیر تو یہ تھی کہ جیسا بعضوں کو جھوٹا کہا تھا ویسا ہی بعضوں کو سچا بھی کہا جاتا تا اگر بعض مخالف ہوتے تو بعض موافق بھی رہتے ۔ بلکہ اگر عربوں کو کہا جاتا کہ تمہارے ہی لات و غڑی سچے ہیں تو وہ تو اسی دم قدموں پر گر پڑتے اور جو چاہتے ان سے کراتے کیونکہ وہ سب خویش اور اقارب اور حمیت قومی میں بے مثل تھے اور ساری بات مانی منائی تھی صرف تعلیم بت پرستی سے خوش ہو جاتے اور بدل و جان اطاعت اختیار کرتے ۔ لیکن سوچنا چاہئیے کہ آنحضرت کا یکلخت ہر ایک خویش و بیگانہ سے بگاڑ لینا اور صرف توحید کو جو ان دنوں میں اس سے زیادہ دنیا کے لئے کوئی نفرتی چیز نہ تھی اور جس کے باعث سے صدہا مشکلیں پڑتی جاتی تھیں بلکہ جان سے مارے جانا نظر آتا تھا مضبوط پکڑ لینا یہ کس مصلحت دنیوی کا تقاضا تھا اور جبکہ پہلے اسی کے باعث سے اپنی تمام دنیا اور جمعیت برباد کر چکے تھے تو پھر اسی بلا انگیز اعتقاد پر اصرار کرنے سے کہ جس کو ظاہر کرتے ہی نو مسلمانوں کو قید اور زنجیر اور سخت سخت ماریں نصیب ہوئیں کس مقصد کا حاصل کرنا مراد تھا۔ کیا دنیا کمانے کے لئے یہی ڈھنگ تھا کہ ہر ایک کو کلمہ تلخ جو اس کی طبع اور عادت اور مرضی اور اعتقاد کے برخلاف تھا۔ سنا کر سب کو ایک دم کے دم میں جانی دشمن بنادیا اور کسی ایک آدھ قوم سے بھی پیوند نہ رکھا۔ جو لوگ طامع اور مکار ہوتے ہیں۔ کیا وہ ایسی ہی تدبیریں کیا کرتے ہیں کہ جس ۔ سے دوست بھی دشمن دشمن ہے ہو جائیں ۔ جولوگ کسی مکر سے دنیا کو کمانا چاہتے اہتے ہیں ہیں کیا ان کا یہی اصول ہوا