تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 345
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۵ سورة يونس یہودیوں والی پوری ہونی تھی اور یہ اس طرف اشارہ کرتی تھیں کہ آنے والا دورنگ لے کر آوے گا (اسی لئے مہدی اور مسیح کے زمانہ کی علامات ایک ہی ہیں اور ان دونوں کا فعل بھی ایک ہی )۔ ( البدر جلد ۲ نمبر ۳۳ مورخه ۴ ستمبر ۱۹۰۳ صفحه ۳۵۸، ۳۵۹) وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَتِ قَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا اثْتِ بِقُرْآنِ غَيْرِ هُذَا أَوْ بَدِلْهُ قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِّلَهُ مِنْ تِلْقَائِ نَفْسِي إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَى إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ ۔ جب مکہ کے بعض نادانوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ قرآن کی توحید ہمیں پسند نہیں آتی کوئی ایسا قرآن لاؤ جس میں بتوں کی تعظیم اور پرستش کا ذکر ہو یا اسی میں کچھ تبدل تغیر کر کے بجائے توحید کے شرک بھر دو تب ہم قبول کر لیں گے اور ایمان لے آئیں گے۔ تو خدا نے ان کے سوال کا جواب اپنے نبی کو وہ تعلیم کیا جو آنحضرت کے واقعات عمری پر نظر کرنے سے پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ ہے : قَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا ۔۔۔ الخ وہ لوگ جو ہماری ملاقات سے نا امید ہیں یعنی ہماری طرف سے بکلی علاقہ توڑ چکے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کے برخلاف کوئی اور قرآن لا جس کی تعلیم اس کی تعلیم سے مغایر اور منافی ہو یا اسی میں تبدیل کر۔ ان کو جواب دے کہ مجھے یہ قدرت نہیں اور نہ روا ہے کہ میں خدا کے کلام میں اپنی طرف سے کچھ تبدیل کروں۔ میں تو صرف اُس وحی کا تابع ہوں جو میرے پر نازل ہوتی ہے اور اپنے خداوند کی نافرمانی سے ڈرتا ہوں ۔ ( براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۷۲، ۵۷۵) قُلْ لَوْ شَاءَ اللهُ مَا تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلَا أَدْرَيكُم بِهِ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمْرًا مِّنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ۔ اگر خدا چاہتا تو میں تم کو یہ کلام نہ سناتا اور خدا تم کو اس پر مطلع بھی نہ کرتا پہلے اس سے اتنی عمر یعنی چالیس برس تک تم میں ہی رہتا رہا ہوں پھر کیا تم کو عقل نہیں یعنی کیا تم کو بخوبی معلوم نہیں کہ افترا کرنا میرا کام نہیں اور جھوٹ بولنا میری عادت میں نہیں ۔ ( براہین احمد یہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۷۵) اور میں ایک عمر تک تم میں ہی رہتا رہا ہوں کیا تم کو عقل نہیں؟ ( براہین احمد یہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد اصفحه ۶۱۲ حاشیه در حاشیه نمبر (۳)