تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 339 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 339

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۹ سورة يونس عورت کے نطفہ میں مرد کا نطفہ پڑتا ہے تو تب انسان کی باطنی حالت نطفہ کی صورت سے علقہ کی صورت میں آجاتی ہے اور کچھ رشتہ باری تعالیٰ سے پیدا ہونے لگتا ہے جیسا کہ علقہ کے لفظ سے تعلق کا لفظ کا لفظ مفہوم ہوتا ہے اور پھر وہ علقہ اعمال صالحہ کے خون کی مدد سے مضغہ بنتا ہے اسی طرز سے کہ جیسے خون حیض کی مدد سے علقہ مضغہ بن جاتا ہے اور مضغہ کی طرح ابھی اس کے اعضانا تمام ہوتے ہیں جیسا کہ مضغہ میں ہڈی والے عضو ا بھی نا پدید ہوتے ہیں ایسا ہی اس میں ا ہی اس میں بھی شدت لله شدت لله اور ثبات اللہ اور استقامت اللہ کے عضوا بھی کما حقہ پیدا نہیں ہوتے گو تواضع اور نرمی موجود ہو جاتی ہے۔ اور اگرچہ پوری شدت اور صلابت اس مرتبہ میں پیدا نہیں ہوتی مگر مضغہ کی طرح کسی قدر قضا و قدر کی مضغ کے لائق ہو جاتا ہے یعنی کسی قدر اس لائق ہو جاتا ہے کہ قضا و قدر کا دانت اس پر چلے اور وہ اس کے نیچے ٹھہر سکے کیونکہ علقہ جو ایک سیال رطوبت کے قریب قریب ہے وہ تو اس لائق ہی نہیں کہ دانتوں کے نیچے پیسا جاوے اور ٹھہرا رہے لیکن مضغہ مضغ کے لائق ہے اسی لئے اس کا نام مضغہ ہے سومضغہ ہونے کی وہ حالت ہے کہ جب کچھ چاشنی محبت الہی کی دل میں پڑ جاتی ہے اور تعلی جلالی تو جہ فرماتی ہے کہ بلاؤں کے ساتھ اس کی آزمائش کرے تب وہ مضغہ کی طرح قضا وقدر کے دانتوں میں پیسا جاتا ہے اور خوب قیمہ کیا جاتا ہے غرض تیسرا درجہ سالک کے وجود کا مضغہ ہونے کی حالت ہے اور پھر چوتھا درجہ وہ ہے کہ جب انسان استقامت اور بلاؤں کی برداشت کی برکت سے آزمائے جانے کے بعد نقوش انسانی کا پورے طور پر انعام پاتا ہے یعنی روحانی طور پر اس کے لئے ایک صورت انسانی عطا ہوتی ہے اور انسان کی طرح اس کو دو آنکھیں ، دوکان اور دل اور دماغ اور تمام ضروری قومی اور اعضا عطا کئے جاتے جاتے ہیں اور بمقتضائے آیت : أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمُ (الفتح : سختی ۳۰) اور نرمی مواضع مناسبہ میں ظاہر ہو جاتی ہے یعنی ہر ایک خلق اس کا اپنے اپنے محل پر صادر ہوتا ہے اور آداب طریقت تمام محفوظ ہوتے ہیں اور ہر ایک کام اور کلام حفظ حدود کے لحاظ سے بجالاتا ہے یعنی نرمی کی جگہ پر نرمی اور سختی کی جگہ پر سختی اور تواضع کی جگہ پر تواضع اور ترفع کی جگہ پر ترفع ایسا ہی تمام قومی سے اپنے اپنے محل پر کام لیتا ہے یہ درجہ جنین کے اس درجہ سے مشابہت رکھتا ہے کہ جب وہ مضغہ کی حالت سے ترقی کر کے انسان کی صورت کا ایک پورا خا کہ حاصل کر لیتا ہے اور ہڈی کی جگہ پر ہڈی نمودار ہو جاتی ہے اور گوشت کی جگہ پر گوشت باقی رہتا ہے ہڈی نہیں بنتی اور تمام اعضا میں با ہم تمیز کلی پیدا ہو جاتی ہے لیکن ابھی خوبصورتی اور تازگی اور تناسب اعضا نہیں ہوتا صرف خاکہ ہوتا ہے جو نظر دقیق سے دکھائی دیتا ہے پھر بعد اس کے