تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 331 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 331

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۱ سورة التوبة رَحْمَةٌ لِلْعَالَمِينَ كُلِهِمْ وَلِنَوْعِ الْإِنْسَانِ ہیں کیونکہ آپ کا وجود مبارک سب جہانوں کے لیے رحمت وَالْحَيَوَانِ وَأَهْلِ الْكُفْرِ وَالْإِيمَانِ ثُمَّ ہے۔ بنی نوع انسان حیوانات ، کافروں ، مومنوں سبھی کے قَالَ " بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُوفٌ رَّحِيمُ لیے ۔ پھر فرمایا بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُوفٌ رَّحِيمٌ ۔ اور اس میں ،، فَجَعَلَهُ رَحْمَانًا وَرَحِيمًا اعجاز مسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۱۱۸ ، ۱۱۹) آپ کو رحمان اور رحیم کے نام دیئے ۔ ( ترجمہ از مرتب ) فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ہم لوگ جو خدا تعالیٰ کو رب العرش کہتے ہیں تو اس سے یہ مطلب نہیں کہ وہ جسمانی اور جسم ہے اور عرش کا محتاج ہے بلکہ عرش سے مراد وہ مقدس بلندی کی جگہ ہے جو اس جہان اور آنے والے جہان سے برابر نسبت رکھتی ہے اور خدا تعالیٰ کو عرش پر کہنا درحقیقت ان معنوں سے مترادف ہے کہ وہ مالک الکونین ہے اور جیسا کہ ایک شخص اونچی جگہ بیٹھ کر یا کسی نہایت اونچے محل پر چڑھ کر یمین و یسار نظر رکھتا ہے۔ ایسا ہی استعارہ کے طور پر خدا تعالیٰ بلند سے بلند تخت پر تسلیم کیا گیا ہے جس کی نظر سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں نہ اس عالم کی اور نہ اس دوسرے عالم کی ، ہاں ! اس مقام کو عام سمجھوں کے لئے اوپر کی طرف بیان کیا جاتا ہے۔ ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۰۰)