تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 329 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 329

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۹ سورة التوبة یا درکھو کہ خدا تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔ چنانچہ فرمایا ہے : إِنَّ اللهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ - اختیار اور ابرار کا نام ابدالآباد تک زندہ رہتا ہے۔ گذشتہ زمانے کے بادشاہوں یہاں تک کہ قیصر ہے۔ وکسری کا کوئی نام بھی نہیں لیتا ۔ برخلاف اس کے خدا تعالیٰ کے راست بازوں اور برگزیدوں کی دنیا مداح الحکم جلد ۵ نمبر ۲۴ مورخه ۳۰ جون ۱۹۰۱ء صفحه ۱) کرنے والے کو اجر مد نظر نہیں رکھنا چاہیے۔ اگر چہ یہ سچ ہے کہ خدا تعالیٰ کسی کی نیکی کو ضائع نہیں کرتا: اِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ مگر نیکی الحکم جلد ۵ نمبر ۳۵ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۱ صفحه ۱۱) دنیا تماشا گاہ ہے۔ کبھی انسان عروج میں گویا افلاک تک پہنچتا ہے اور کبھی خاک میں مگر جو لوگ خدا کی طرف اور خدا کے بندوں کی طرف جھکتے ہیں وہ ضائع نہیں کیے جاتے إِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ - ( مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ ۳۷۶) وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ ) یعنی ایسے لوگ ہونے چاہئیں جو چاہئیں جو تفقہ فی الدین کریں یعنی جو دین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا ہے اس میں تفقہ کر سکیں ۔ یہ نہیں کہ طوطے کی طرح یاد ہو اور اس میں غور وفکر کی مطلق عادت اور مذاق ہی نہ ہو۔ اس سے وہ غرض حاصل نہیں ہو سکتی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے ۔۔۔۔ لیکن چونکہ سب کے سب ایسے نہیں ہو سکتے اس لیے یہ نہیں فرمایا کہ سب کے سب ایسے ہو جائیں بلکہ یہ فرمایا کہ ہر جماعت اور گروہ میں سے ایک ایک آدمی ہو اور گویا ایک جماعت ایسے لوگوں کی ہونی چاہیے جو تبلیغ اور اشاعت کا کام کر سکیں۔ اس لیے بھی ہر شخص ایسی طبیعت اور مذاق کا نہیں ہوتا۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲ مورخه ۱۷ جنوری ۱۹۰۶ صفحه ۴) لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمُ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ جذب اور عقد ہمت ایک انسان کو اس وقت دیا جاتا ہے جبکہ وہ خدا تعالیٰ کی چادر کے نیچے آجاتا ہے