تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 327 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 327

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۷ سورة التوبة پاس والے کو بھی پہنچ ہی جاتی ہے۔ اسی طرح پر صادقوں کی صحبت ایک روح صدق کی نفخ کر دیتی ہے۔ میں سچ کہتا ہوں کہ گہری صحبت نبی اور صاحب نبی کو ایک کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے جو قرآن شریف میں کونوا مَعَ الصُّدِقِينَ فرمایا ہے اور اسلام کی خوبیوں میں سے یہ ایک بے نظیر خوبی ہے کہ ہر زمانہ میں ایسے صادق موجود رہتے ہیں ۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۶ صفحه ۵) صادق کی صحبت میں رہو تو خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت سے امور میں مشکلات آسان ہو جاتے ہیں۔ ( بدر جلد ۲ نمبر ۴۶ مورخه ۱۵ نومبر ۱۹۰۶ ء صفحه (۵) اگر چہ یہ علوم لدنیہ و کشوف صادقه و تائیدات خاصه الهیه و تو جہات جلیلہ صدر یہ غیر فانی کو ذاتی طور پر حاصل نہیں ہو سکتے لیکن بتوسط صحبت شیخ فانی بھی حاصل ہو سکتے ہیں یعنی اگر چہ براہ راست نہیں لیکن سالک اپنے شیخ کامل میں ان تمام تائیدات سماویہ کو معائنہ و مشاہدہ کرتا ہے۔ پس یہی مشاہدہ اس کے یقین کی کمالیت کا موجب ہو جاتا ہے۔ اگر جلدی نہیں تو ایک زمانہ دراز کی صحبت سے ضرور شکوک و شبہات کی تاریکی دل پر سے اُٹھ جاتی ہے۔ اسی جہت سے فانیوں کی معیت کے لیے قرآن شریف میں سخت تاکید ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: كُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ - أَى كُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ وَالصُّدِقُوْنَ هُمُ الْفَانُونَ لَا غَيْرَ هُمْ اور جو شخص نہ فانی ہے اور نہ فانیوں سے اس کا کچھ تعلق اور محبت ہے وہ معرض ہلاکت میں ہے اور اس کے سوء خاتمہ کا سخت اندیشہ ہے۔ (مکتوبات احمد جلد اول صفحه ۵۶۰) یہ کہنا کہ ہمارے لیے قرآن اور احادیث کافی ہیں اور صحبت صادقین کی ضرورت نہیں یہ خود مخالفت تعلیم قرآن ہے کیونکہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے : وَ كُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ اور صادق وہ ہیں جنہوں نے صدق کو علی وجہ البصیرت شناخت کیا اور پھر اس پر دل و جان سے قائم ہو گئے اور یہ اعلی درجہ بصیرت کا بجز اس کے ممکن نہیں کہ سماوی تائید شامل حال ہو کر اعلیٰ مرتبہ حق الیقین تک پہنچادیوے۔ پس ان معنوں کر کے صادق حقیقی انبیاء اور رسل اور محدث اور اور اولیاء اولیاء کا کاملین مکمل مکملین لین ۔ ہیں۔ جن پر آسمانی روشنی ا پڑی پڑی اور اور جنہ جنہوں نے خدا تعالیٰ کو اسی جہان میں یقین کی آنکھوں سے دیکھ لیا اور آیت موصوفہ بالا بطور اشارت ظاہر کر رہی ہے کہ دنیا صادقوں کے وجود سے کبھی خالی نہیں ہوتی کیونکہ دوام حکم كُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ دوام وجودصادقین کو مستلزم ہے علاوہ اس کے مشاہدہ صاف بتلا رہا ہے کہ جو لوگ صادقوں کی صحبت سے لا پروا ہو کر عمر گزارتے ہیں ان کے علوم وفنون جسمانی جذبات سے ان کو ہرگز صاف نہیں کر سکتے اور کم سے کم اتنا ہی مرتبہ اسلام کا کہ دلی یقین اس بات پر ہو کہ خدا