تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 323
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۳ سورة التوبة وہاں سے نامراد اور سخت دل ہو کر آتے ہیں اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ وہاں کی حقیقت ان کو نہیں ملتی ۔ قشر کو دیکھ کر رائے زنی کرنے لگ جاتے ہیں ۔ وہاں کے فیوض سے محروم ہوتے ہیں اپنی بدکاریوں کی وجہ سے، اور پھر الزام دوسروں پر دھرتے ہیں اس واسطے ضروری ہے کہ مامور کی خدمت میں صدق اور استقلال سے کچھ عرصہ رہا جاوے تا کہ اس کے اندرونی حالات سے بھی آگاہی ہو اور صدق پورے طور پر نورانی ہو جاوے۔ الحکم جلدے نمبر ۱۰ مورخه ۱۷ مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۴) دو چیزیں ہیں؛ ایک تو دعا کرنی چاہیے ، دوسرا طریق یہ ہے کہ كُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ راست بازوں کی صحبت میں رہوتا کہ ان کی صحبت میں رہ کر کے تم کو پتہ لگ جاوے کہ تمہارا خدا قادر ہے، بینا ہے، سننے والا ہے، دعائیں قبول کرتا ہے اور اپنی رحمت سے بندوں کو صد ہا نعمتیں دیتا ہے البدر جلد ۲ نمبر ۲۸ مورخہ ۳۱ جولائی ۱۹۰۳ ء صفحہ ۲۱۷) اصلاح نفس کی ایک راہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کُونُوا مَعَ الصُّدقین یعنی جولوگ قولی فعلی عملی اور حالی رنگ میں سچائی پر قائم ہیں ان کے ساتھ رہو ۔ اس سے پہلے فرمایا : یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ یعنی اے ایمان والو ! تقویٰ اللہ اختیار کرو، اس سے مراد یہ ہے کہ پہلے ایمان ہو پھر سنت کے طور پر بدی کی جگہ کو چھوڑ دے اور صادقوں کی صحبت میں رہے۔ صحبت کا بہت بڑا اثر ہوتا ہے جو اندر ہی اندر ہوتا چلا جاتا ہے اگر کوئی شخص ہر روز کنجریوں کے ہاں جاتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ کیا میں زنا کرتا ہوں ۔اس سے کہنا چاہیے کہ ہاں تو کرے گا اور وہ ایک نہ ایک دن اس میں مبتلا ہو جاوے گا کیونکہ صحبت میں تاخیر ہوتی ہے اسی طرح پر جو شخص شراب خانہ میں جاتا ہے خواہ وہ کتنا ہی پر ہیز کرے اور کہے کہ میں نہیں پیتا ہوں لیکن ایک دن آئے گا کہ وہ ضرور پئے گا۔ پس اس سے کبھی بے خبر نہیں رہنا چاہیے کہ صحبت میں بہت بڑی تاثیر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اصلاح نفس کے لیے کُونُوا مَعَ الصَّدِقِينَ کا حکم دیا ہے ۔ جو شخص نیک صحبت میں جاتا ہے خواہ وہ مخالفت ہی کے رنگ میں ہو لیکن وہ صحبت اپنا اثر کیے بغیر نہ رہے گی اور ایک نہ ایک دن وہ اس مخالفت سے باز آجائے گا۔ ہم افسوس سے کہتے کہ ہمارے مخالف اسی صحبت کے نہ ہونے کی وجہ سے محروم رہ گئے ۔ اگر وہ ہمارے پاس آکر رہتے ۔ ہماری باتیں سنتے تو ایک وقت آجاتا کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کی غلطیوں پر متنبہ کر دیتا اور وہ حق