تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 318 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 318

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۸ سورة التوبة میں رہنے کی غرض سے جس کی طرف آیت کریمہ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ ہدایت فرماتی ہے۔ ( آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۶۰۵ تا ۶۰۷) زیارت صالحین کے لیے سفر کرنا قدیم سے سنت سلف صالح چلی آئی ہے اور ایک حدیث میں ہے کہ جب قیامت کے دن ایک شخص اپنی بداعمالی کی وجہ سے سخت مواخذہ میں ہوگا تو اللہ جل شانہ اس سے پوچھے گا کہ فلاں صالح آدمی کی ملاقات کے لیے کبھی تو گیا تھا تو وہ کہے گا بالا رادہ تو کبھی نہیں گیا مگر ایک دفعہ ایک راہ میں اس کی ملاقات ہو گئی تھی تب خدا تعالیٰ کہے گا کہ جا بہشت میں داخل ہو میں نے اسی ملاقات کی وجہ سے تجھے بخش دیا۔ ( آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۶۰۸) انسان ایسا جاندار ہے کہ جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے تربیت ایمانی کے لیے فیوض و برکات نہ ہوں وہ خود بخود پاک صاف نہیں ہو سکتا اور حقیقت میں پاک صاف ہونا اور تقویٰ پر قدم مارنا آسان امر نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل اور تائید سے یہ نعمت ملتی ہے اور سچی تقویٰ جس سے خدا تعالیٰ راضی ہو اس کے حاصل کرنے کے لیے بار بار اللہ تعالیٰ نے فرمایا : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا الله اور پھر یہ بھی کہا : إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَ الَّذِينَ هُمْ مُّحْسِنُونَ (النحل : ١٢٩) - الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۲ مورخه ۲۴ جون ۱۹۰۶ء صفحه ۲، ۳) صبر کی حقیقت میں سے یہ بھی ضروری بات ہے کُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ صادقوں کی صحبت میں رہنا ضروری ہے۔ بہت سے لوگ ہیں جو دور بیٹھے رہتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ کبھی آئیں گے اس وقت فرصت نہیں ہے۔ بھلا تیرہ سو سال کے موعود سلسلہ کو جو لوگ پالیں اور اس کی نصرت میں شامل نہ ہوں اور خدا اور رسول کے موعود کے پاس نہ بیٹھیں وہ فلاح پا سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں۔ ہم خدا خواہی و ہم دنیائے دوں ایں خیال هست و محال است و جنوں دین تو چاہتا ہے کہ مصاحبت ہو۔ پھر مصاحبت سے گریز ہو تو دینداری کے حصول کی امید کیوں رکھتا ہے۔ ہم نے بارہا اپنے دوستوں کو نصیحت کی ہے اور پھر کہتے کہ وہ بار بار یہاں آکر رہیں اور فائدہ اُٹھائیں۔ مگر بہت کم توجہ کی جاتی ہے لوگ ہاتھ میں ہاتھ دے کر تو دین کو دنیا پر مقدم کر لیتے ہیں۔ مگر اس کی پروا کچھ نہیں کرتے ۔۔۔۔۔ وہ لوگ جو یہاں آکر میرے پاس کثرت سے نہیں رہتے اور ان باتوں سے جو خدا تعالیٰ ہر روز اپنے سلسلہ کی تائید میں ظاہر کرتا ہے نہیں سنتے اور دیکھتے ۔ وہ اپنی جگہ پر کیسے ہی نیک اور متقی اور پر ہیز گار ہوں مگر میں یہی کہوں گا کہ جیسا چاہیے انہوں نے قدر نہیں کی۔ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ تکمیل علمی کے بعد