تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 313
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۳ سورة التوبة وَ السَّبِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهْجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّتِ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهُرُ خَلِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ۔ اصل میں صفات کل نیک ہوتے ہیں جب ان کو بے موقع اور ناجائز طور پر استعمال کیا جاوے تو وہ برے ہو جاتے ہیں اور ان کو گندہ کر دیا جاتا ہے لیکن جب انہی صفات کو افراط تفریط سے بچا کر محل اور موقعہ پر استعمال کیا جاوے تو ثواب کے موجب ہو جاتے ہیں قرآن مجید میں ایک جگہ فرمایا ہے : مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ( الفلق : ۶ ) اور دوسری جگہ الشَّبِقُونَ الْأَوَّلُونَ اب سبقت لے جانا بھی تو ایک قسم کا حسد ہی ہے ۔ سبقت لے جانے والا کب چاہتا ہے کہ اس سے اور کوئی آگے بڑھ جاوے۔ یہ صفت بچپن ہی سے انسان میں پائی جاتی ہے۔ اگر بچوں کو آگے بڑھنے کی خواہش نہ ہو تو وہ محنت نہیں کرتے اور کوشش کرنے والے کی استعداد بڑھ جاتی ہے۔ سابقون گویا حاسد ہی ہوتے ہیں لیکن اس جگہ حسد کا مادہ مصفی ہو کر سابق ہو جاتا ہے۔ اسی طرح حاسد ہی بہشت میں سبقت لے جاویں گے۔ البدر جلد ۲ نمبر ۱۲ مورخه ۱۰ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۱ / ۸۹) خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَصَلَّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلونَكَ سَكَكُن لَّهُمْ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ۔ لبا و و سكن لهم یہ شفاعت کا اعت کا فلسفہ ہے یعنی جو گناہوں میں نفسانیت کا جوش ہے وہ ٹھنڈا پڑ جاوے۔۔۔ تیری صلوۃ سے ان کو ٹھنڈ پڑ جاتی ہے اور جوش اور جذبات کی آگ سرد ہو جاتی ہے۔ الحکم جلدے نمبر ۹ مورخه ۱۰ / مارچ ۱۹۰۳ء صفحه ۲، ۳) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منافق کو کرتہ دیا اور اس کے جنازہ کی نماز پڑھی ۔ ممکن ہے کہ اس نے غرغرہ کے وقت تو بہ کر لی ہو۔ مومن کا کام ہے کہ حسن ظن رکھے ۔ اس لیے نماز جنازہ کا جواز رکھا ہے کہ ہر ایک کی پڑھ لی جاوے ہاں اگر کوئی سخت معاند ہو یا فساد کا اندیشہ ہے تو پھر نہ پڑھنی چاہیے۔ ہماری جماعت کے سر پر فرضیت نہیں ہے بطور احسان کے ہماری جماعت دوسرے غیر از جماعت کا جنازہ پڑھ سکتی ہے۔