تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 311
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۱ سورة التوبة لله بال بچوں کو تکلیف ہوگی ۔ ہمارے گھروں کا ایسا حال ہے یہ ۔ ہے یہ ہے وہ ہے ہ ہے اِن بُيُوتَنَا عَورَةُ ( الاحزاب : ۱۴) اور ہم نے یہ تو نہیں کہنا کہ جا کر سر کٹوائیں بلکہ یہی ہے کہ دین کے لیے سفر کی تکالیف اور صدمے اٹھا دیں مگر اکثر یہی کہہ دیں گے جی گرمی بہت ہے۔ زیادہ تکلیف کا اندیشہ ہے۔ مگر خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ جہنم کی گرمی اس سے بھی زیادہ ہوگی ۔ نَارُ جَهَنَّمَ أَشَدُّ حَدًّا - صحابہ کا نمونہ مسلمان بننے کے لیے اپکا نمونہ ہے۔ الحکم جلد ا ا نمبر ۳۴ مورخہ ۲۴ ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۶) فَلْيَضْحَكُوا قَلِيلًا وَلْيَبْلُوا كَثِيرًا جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ ) دنیا وی تمتع کا حصہ انسانی زندگی میں بہت ہی کم ہونا چاہیے تا کہ فَلْيَضْحَكُوا قَلِيلًا وَلْيَبْلُوا كَثِيرًا یعنی ہنسو تھوڑا اور روؤ بہت کا مصداق بنو لیکن جس شخص کی دنیاوی تمتع کثرت سے ہیں اور وہ رات دن بیویوں میں مصروف ہے اس کو رقت اور رونا کب نصیب ہوگا۔ (البدر جلد ۳ نمبر ۲۶ مورخہ ۱۸ جولائی ۱۹۰۴ صفحه ۲) صوفیوں نے لکھا ہے کہ اگر چالیس دن تک رونا نہ آوے تو جانو کہ دل سخت ہو گیا ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے: فَلْيَضْحَكُوا قَلِيلًا وَلْيَبْلُوا كَثِيرًا کہ ہنسو تھوڑا اور روؤ بہت مگر اس کے برعکس دیکھا جاتا ہے کہ لوگ ہنستے بہت ہیں اب دیکھو کہ زمانہ کی کیا حالت ہے اس سے یہ مراد نہیں کہ انسان ہر وقت آنکھوں سے آنسو بہاتا رہے بلکہ جس کا دل اندر سے رورہا ہے وہی روتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ دروازہ بند کر کے اندر بیٹھ کر خشوع اور خضوع سے دعا میں مشغول ہو اور بالکل عجز و نیاز سے خدا کے آستانہ پر گر پڑے تا کہ وہ اس آیت کے نیچے ۔ نہ آوے۔ جو بہت ہنستا ہے وہ مومن نہیں اگر سارے دن کا نفس کا محاسبہ کیا جاوے تو معلوم ہو کہ بنسی اور تمسخر کی میزان زیادہ ہے اور رونے کی بہت کم ہے بلکہ اکثر جگہ بالکل ہی نہیں ہے۔ اب دیکھو کہ زندگی کس قدر غفلت میں گزر رہی ہے اور ایمان کی راہ کس قدر مشکل ہے گویا ایک طرح سے مرنا ہے اور اصل میں اسی کا نام ایمان ہے۔ البدر جلد ۲ نمبر ۴۳ مورخه ۱۶ نومبر ۱۹۰۳ ء صفحه ۳۳۴) وَ مِنَ الْأَعْرَابِ مَنْ يَتَّخِذُ مَا يُنْفِقُ مَغْرَمًا وَ يَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَابِرَ عَلَيْهِمْ دَابِرَةُ السَّوْءِ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ غلام دستگیر قصوری کے بارے میں ذکر تھا کہ بعض مخالفین کہتے ہیں اس نے کب مباہلہ کیا۔ حضور مباہلہ کیا۔ حضور نے فرمایا :۔) بطریق تنزل ہم مان لیتے ہیں کہ اس نے صرف ہمارے لیے بددعا کی مگر اب بتاؤ کہ اس کی دعا کا اثر