تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 304
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام له ولد سورة التوبة لوگوں کے مال لے کر سونا اور چاندی جمع کر لیتے ہیں اور خدا کی راہ میں کچھ بھی خرچ نہیں کرتے سو ان کو چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۴۱) دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو۔ إِلَّا تَنْصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللهُ إِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا ۚ فَانْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَ أَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَى وَكَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ۔ وَمِنْ حَسَنَاتِ الصِّدِّيقِ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نیکیوں اور آپ کے خاص وَمَزَايَاهُ الْخَاصَّةِ أَنَّهُ خُصَّ لِمُرَافَقَةِ فضائل میں سے ایک یہ ہے کہ آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سَفْرِ الْهِجْرَةِ وَجُعِلَ شَرِيكَ کے سفر ہجرت کی مرافقت کے لیے خاص کیا گیا اور آپ کو مَضَائِقِ خَيْرِ الْبَرِيَّةِ وَأَنيُسَهُ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے مصائب میں شریک بنایا گیا الْخَاضَ فِي بَاكُورَةِ الْمُصِيبَةِ اور آپ کو آغاز مصیبت میں ہی آپ کا دوست قرار دیا گیا تا کہ لِيَثْبُتَ تَخَصُّصُةَ بِمَحْبُوبِ اللہ تعالیٰ کے محبوب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کا الْحَضْرَةِ وَسِرُّ ذلِك أَنَّ اللهَ كَانَ تخصص ثابت ہو اور اس کا راز یہ ہے کہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ يَعْلَمُ بِأَنَّ الصِّدِّيقَ أَشْجَعُ الصَّحَابَةِ حضرت ابو بکر صدیق صحابہ میں سے بہادر ترین اور متقی ہیں اور وَمِنَ التَّقَاةِ وَأَحَبُّهُمْ إِلَى رَسُولِ الله رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سب صحابہ سے زیادہ محبوب ہیں اور صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِنَ الْكُمَاةِ آپ ( یعنی حضرت ابوبکر ) بہادر ترین لوگوں میں سے ہیں اور آپ وَكَانَ فَانِيَّا فِي حُبِّ سَیّدِ کی محبت میں فنا ہیں اور وہ قدیم سے اس بات کے عادی تھے کہ الْكَائِنَاتِ، وَكَانَ اعْتَادَ مِنَ الْقَدِيمِ آپ کی ضروریات پوری کریں اور آپ کے کاموں کی نگرانی کریں۔ أَنْ يَمُونَهُ وَيُرَاعِيَ شُؤُونَهُ، فَأَسْلَى بِهِ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق کے وجود کے ساتھ تنگی کے اللهُ نَبِيَّةَ فِي وَقْتِ عَبُوس وَعَيْشِ وقت اور شدت کی گھڑیوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بُوسٍ، وَخُصَّ بِاسْمِ الصَّدِّيقِ وَ قُرْبَ کو تسلی دی۔ حضرت ابوبکر کو صدیق کے لقب اور رسول کریم صلی نَبِي الثَّقَلَيْنِ، وَأَفَاضَ اللهُ عَلَيْهِ | اللہ علیہ وسلم کے قرب سے خاص کیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو