تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 294
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۴ سورة التوبة خونریزیوں کی وجہ سے وہ اس کے لائق ہو گئے تھے ان کو یہ بھی رعایت دی گئی کہ اگر کوئی ان میں سے اپنی مرضی سے دین اسلام اختیار کرے تو امن میں آجائے۔ اب اس نرم اور پر رحم طریق پر اعتراض کیا جاتا ہے اور حضرت موسیٰ کی لڑائیوں کو مقدس سمجھا جاتا ہے۔ افسوس ہزار افسوس اگر اس وقت انصاف ہو تو اس فرق کا سمجھنا کچھ مشکل نہ تھا۔ تعجب کہ وہ خدا جس نے حضرت موسی کو حکم دے دیا کہ تم مصر سے ناحق بے موجب لوگوں کے برتن اور زیور مستعار طور پر لے کر اور دروغ گوئی کے طور پر ان چیزوں کو اپنے قبضہ میں کر کے پھر اپنا مال سمجھ لو اور دشمنوں کے مقابل پر ایسی بے رحمی کرو کہ کئی لاکھ بچے اُن کے قتل کر دو اور لوٹ کا مال لے لو اور ایک حصہ خدا کا اُس میں سے نکالو اور حضرت موسیٰ جس عورت کو چاہیں اپنے لئے پسند کریں اور بعض صورتوں میں جزیہ بھی لیا جائے اور مخالفوں کے شہر اور دیہات پھونکے جائیں ۔ اور وہی خُدا ہمارے نبی صلعم کے وقت میں باوجود اپنی ایسی نرمیوں کے فرماتا ہے بچوں کو قتل نہ کرو، عورتوں کو قتل نہ کرو، راہبوں سے کچھ تعلق نہ رکھو، کھیتوں کو مت جلاؤ ، گر جاؤں کو مسمار مت کرو اور اُنہیں کا مقابلہ کرو جنہوں نے اول تمہارے قتل کرنے کے لئے پیش قدمی کی ہے اور پھر اگر وہ جزیہ دے دیں یا اگر عرب کے گروہ میں سے ہیں جو اپنی سابقہ خونریزیوں کی وجہ سے واجب القتل ہیں تو ایمان لانے پر ان کو چھوڑ دو۔ اگر کوئی شخص کلام الہی سنا چاہتا ہے تو اُس کو اپنی پناہ میں لے آؤ اور جب وہ سن چکے تو اس کو اُس کی امن کی جگہ میں پہنچا دو۔ افسوس کہ اب وہی خدا مورد اعتراض ٹھہرایا گیا ہے۔ افسوس کہ ایسی محمد ہ اور اعلیٰ تعلیم پر وہ لوگ اعتراض کر رہے ہیں جو توریت کی ان خونریزیوں کو جن سے بچے بھی باہر نہیں رہے خدائے تعالیٰ کی طرف سے سمجھتے ہیں ۔ جہاد (جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۶۴ تا ۲۶۶) میں یعنی لڑنے میں اسلام سے ابتدا نہیں ہوئی جیسا کہ فرماتا ہے : وَهُمْ بَدَءُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ یعنی انہیں مخالفوں نے لڑنے میں ابتدا کی پھر جبکہ انہوں نے آپ ابتدا کی ، وطن سے نکالا ، صد ہا بے گناہوں کو قتل کیا ، تعاقب کیا اور اپنے بتوں کی کامیابی کی شہرت دی تو پھر بجز ان کی سرکوبی کے اور کون سا طریق حق اور حکمت کے مناسب حال تھا۔ اس کے مقابل حضرت موسی کی لڑائیاں دیکھئے جن لوگوں کے ساتھ ہوئیں کون سی تکلیفیں اور دکھ ان سے پہنچے تھے اور کیسی بے رحمی ان لڑائیوں میں کی گئی کہ کئی لاکھ بچے بے گناہ قتل کئے گئے ۔ (جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۵۶) اُس خدا نے جو اسلام کا بانی ہے یہ نہیں چاہا کہ اسلام دشمنوں کے حملوں سے فنا ہو جائے بلکہ اس نے