تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 288 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 288

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۸ اور اگر مخالف لوگ صلح کے واسطے جھکیں تو تم بھی جھک جاؤ اور خدا پر توکل کرو۔ سورة الانفال پیغام صلح ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۷۹) اصل میں مومن کو بھی تبلیغ دین میں حفظ مراتب کا خیال رکھنا چاہیے ۔ جہاں نرمی کا موقعہ ہو وہاں سختی اور درشتی نہ کرے اور جہاں بحر سختی کرنے کے کام ہوتا نظر نہ آوے وہاں نرمی کرنا بھی گناہ ہے۔ گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی ۔ دیکھو! فرعون بظاہر کیسا سخت کا فرانسان تھا مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت موسیٰ کو یہی ہدایت ہوئی کہ قُوْلًا لَهُ قَوْلًا لَيِّنًا (طه : بنا (طه: ۴۵) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے بھی قرآن شریف میں اسی قسم کا حکم ہے: وَ إِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحُ لها مومنوں اور مسلمانوں کے واسطے نرمی اور شفقت کا حکم ہے۔ رسول اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بھی ایسی ہی حالت بیان کی گئی جہاں فرمایا ہے کہ : مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمُ (الفتح : (۳) ۔ (الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۷ مورخہ ۱۴ را پریل ۱۹۰۸ صفحه ۳) اور اگر مخالف لوگ صلح کے واسطے جھکیں تو تم بھی جھک جاؤ اور خدا پر توکل کرو۔ ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۴۲۱) وَإِنْ يُرِيدُوا أَنْ يَخْدَعُوكَ فَإِنَّ حَسْبَكَ اللَّهُ هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَ بِالْمُؤْمِنِينَ اور اگر صلح کے وقت دل میں دغار کھیں تو اس دعا کے تدارک کے لیے خدا تجھے کافی ہے۔ ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۴۲۱) وَ الَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَّا الَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَ لكِنَّ اللهَ الَّفَ بَيْنَهُمْ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ۔ رض ہمارے ہادی اکمل کے صحابہؓ نے اپنے خدا اور رسول کے لیے کیا کیا جان شاریاں کیں ۔ جلا وطن ہوئے ، ظلم اُٹھائے، طرح طرح کے مصائب اٹھائے ، جانیں دے دیں لیکن صدق و وفا کے ساتھ قدم مارے ہی گئے ۔ پس وہ کیا بات تھی کہ جس نے انہیں ایسا جان نثار بنا دیا وہ سچی الہی محبت کا جوش تھا جس کی شعاع ان کے دل میں پڑ چکی تھی ۔ سو خواہ کسی نبی کے ساتھ مقابلہ کر لیا جاوے۔ آپ کی تعلیم ، تزکیہ نفس ، پیروؤں کو دنیا