تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 286 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 286

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ع ۲۸۶ سورة الانفال که حلوا چو یک بار خوردند و بس ایک اور بات بھی ہے کہ اس پہلے نمونہ کے دکھانے میں ایک اور امر بھی ملحوظ تھا یعنی اس وقت اظہار شجاعت بھی مقصود تھا جو اس وقت کی دنیا میں سب سے زیادہ محمود اور محبوب وصف سمجھی جاتی تھی اور اس وقت تو حرب ایک فن ہو گیا ہے کہ دور بیٹھے ہوئے بھی ایک آدمی توپ اور بندوق چلا سکتا ہے۔ ان دنوں میں سچا بہادر وہ تھا جو تلواروں کے سامنے سینہ سپر ہوتا اور آج کل کا فن حرب تو بزدلوں کا پردہ پوش ہے۔ اب شجاعت کا کام نہیں بلکہ جو شخص آلات حرب جدید اور نئی تو ہیں وغیرہ رکھتا اور چلا سکتا ہے وہ کامیاب ہو سکتا ہے۔ اس حرب کا مدعا اور مقصد مومنوں کے مخفی مادہ شجاعت کا اظہار تھا اور خدا تعالیٰ نے جیسا چاہا خوب طرح اسے دنیا پر ظاہر کیا۔ اب اس کی حاجت نہیں رہی اس لیے کہ اب جنگ نے فن اور مکیدہ اور خدیعہ کی صورت اختیار کر لی ہے اور نئے نئے آلات حرب اور پیچد ارفنون نے اس قیمتی اور قابل فخر جو ہر کو خاک میں ملا دیا ہے۔ ابتدائے اسلام میں دفاعی لڑائیوں اور جسمانی جنگوں کی اس لیے بھی ضرورت پڑتی تھی کہ دعوت اسلام کرنے والے کا جواب ان دنوں دلائل و براہین سے نہیں بلکہ تلوار سے دیا جاتا تھا اس لیے لاچار جواب الجواب میں تلوار سے کام لینا پڑا لیکن اب تلوار سے جواب نہیں دیا جاتا بلکہ قلم اور دلائل سے اسلام پر نکتہ چینیاں کی جاتی ہیں یہی وجہ ہے کہ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے چاہا کہ سیف ( تلوار ) کا کام قلم سے لیا جائے اور تحریر سے مقابلہ کر کے مخالفوں کو پست کیا جاوے اسی لیے اب کسی کو شایاں نہیں کہ قلم کا جواب تلوار سے دینے کی کوشش کرے۔ گر حفظ مراتب نه کنی زندیقی اس وقت جو ضرورت ہے وہ یقیناً سمجھ لو! سیف کی نہیں بلکہ قلم کی ہے۔ ہمارے مخالفین نے اسلام پر جو شبہات وارد کیے ہیں اور مختلف سائنسوں اور مکائد کی رو سے اللہ تعالیٰ کے سچے مذہب پر حملہ کرنا چاہا ہے، اس نے مجھے متوجہ کیا ہے کہ میں قلمی اسلحہ پہن کر اس سائنس اور علمی ترقی کے میدانِ کارزار میں اتروں اور اسلام کی روحانی شجاعت اور باطنی قوت کا کرشمہ بھی دکھاؤں ۔ میں کب اس میدان کے قابل ہو سکتا تھا۔ یہ تو صرف اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور اس کی بے حد عنایت ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ میرے جیسے عاجز انسان کے ہاتھ سے اس کے دین کی عزت ظاہر ہو۔ میں نے ایک وقت ان اعتراضات اور حملات کو شمار کیا تھا جو اسلام پر ہمارے مخالفین نے کیے ہیں تو ان کی تعداد اس وقت میرے خیال اور اندازہ میں تین ہزار ہوئی تھی اور میں سمجھتا ہوں کہ اب تو اور بھی تعداد بڑھ گئی ہو گی ۔ کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ اسلام کی بناء ایسی کمزور باتوں پر ہے کہ اس پر تین