تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 277 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 277

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۷ سورة الانفال وَ مَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ ودر يستغفرون ۔ أَى مَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّ بَهُمْ بِعَذَابٍ كَامِلٍ یعنی اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ ان کو کامل عذاب میں مبتلا کرے جب کہ تو ان میں سکونت پذیر ہے۔ وَ أَنْتَ سَاكِنَ فِيهِمْ - ( براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۲۶۷ حاشیه در حاشیہ نمبر ۱۱) اور خدا ایسا نہیں جو ان کو عذاب پہنچاوے جب تک تو ان کے درمیان ہے یا جب وہ استغفار کریں۔ براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۱۴ حاشیه در حاشیہ نمبر (۳) خدا ایسا نہیں کہ مکہ والوں پر عذاب نازل کرے اور تو ان میں ہو کیونکہ وہ آفتاب تھا اور یہ غیر ممکن ہے کہ آفتاب اب کے ہوتے عذاب کی ظلمت نازل ہو۔ (انوار الاسلام، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۵۵) اور خدا ایسا نہیں ہے کہ ان سب کو عذاب سے ہلاک کر دیتا حالانکہ تو انہیں میں رہتا ہے۔ (حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۴۳) استغفار عذاب الہی اور مصائب شدیدہ کے لیے سپر کا کام دیتا ہے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّ بَهُمُ ۔۔۔۔ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ ۔ (الحکم جلد ۵ نمبر ۲۷ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۱ء صفحہ ۱) یہ تمام اقوام کا مذہب ہے کہ صدقہ سے رد بلا ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ بھی فرماتا ہے: مَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّبَهُمْ ا وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ - استغفار عذار نمار عذاب سے بچنے کا ذریعہ ۔ کا ذریعہ ہے۔ ہمارے تجربوں کی طرف کوئی جائے تو ایک مندرا مر صبح کو ہو تو شام کو منسوخ ہو جاتا ہے۔ ( بدر جلد ۶ نمبر ۱۷ مورخه ۲۵ را پریل ۱۹۰۷ صفحه ۴) تمام انبیاء کرام کا اجماعی مسئلہ ہے کہ صدقہ و استغفار سے رد بلا ہوتا ہے ۔ بلا کیا چیز ہے یعنی وہ تکلیف دہ امر جو خدا کے ارادہ میں مقدر ہو چکا ہے، اب اس بلا کی اطلاع جب کوئی نبی دے تو وہ پیشگوئی بن جاتی ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ ارحم الراحمین ہے۔ وہ تضرع کرنے والوں پر اپنی رحمت سے رجوع کرتا ہے۔ اس لیے ہمارا یہ عقیدہ نہیں کہ وعید کی پیشگوئیاں اٹل ہیں بلکہ وہ ٹل جاتی ہیں ۔ (البدر جلدے نمبر ۱۹ ، ۲۰ مورخه ۲۴ مئی ۱۹۰۸ء صفحه ۴) وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَا كَانُوا یہ