تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 273 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 273

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۳ سورة الانفال انَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَ أَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ - اَمْوَالُكُمْ میں عورتیں داخل ہیں۔ عورت چونکہ پردہ میں رہتی ہے اس لیے اس کا نام بھی پردہ ہی میں رکھا ہے اور اس لیے بھی کہ عورتوں کو انسان مال خرچ کر کے لاتا ہے، مال کا لفظ مائل سے لیا گیا ہے یعنی جس کی طرف طبعاً توجہ اور رغبت کرتا ہے عورت کی طرف بھی چونکہ طبعاً توجہ کرتا ہے اس لیے اس کو مال میں داخل فرمایا ہے۔ مال کا لفظ اس لیے رکھا تا کہ عام محبوبات پر حاوی نہ ہو ورنہ اگر صرف نساء کا لفظ ہوتا ہے تو اولاد اور عورت دو چیزیں قرار دی جاتیں اور اگر محبوبات کی تفصیل کی جاتی تو پھر دس جزو میں بھی ختم نہ ہوتا ۔ غرض مال سے مراد كُلُّ مَا يَمِيلُ إِلَيْهِ الْقَلْبُ ہے۔ اولاد کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ انسان اولاد کو جگر کا ٹکڑا اور اپنا وارث سمجھتا ہے۔ مختصر بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور انسان کے محبوبات میں ضد ہے دونوں باتیں یکجا جمع نہیں ہو سکتیں ۔ اس سے یہ مت سمجھو کہ پھر عورتیں ایسی چیزیں ہیں کہ ان کو بہت ذلیل اور حقیر قرار دیا جاوے۔ نہیں ! نہیں ! ہمارے ہادی کامل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جس کا اپنے اہل کے ساتھ عمدہ سلوک ہو۔ بیوی کے ساتھ جس کا عمدہ چال چلن اور معاشرت اچھی نہیں ، وہ نیک کہاں ؟ دوسرے کے ساتھ نیکی اور بھلائی تب کر سکتا۔ اہے جب وہ اپنی بیوی کے ساتھ عمدہ سلوک کرتا ہو اور عمدہ معاشرت رکھتا ہو۔ نہ یہ کہ ہرا دنی بات پر زد و کوب کرے۔ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ بعض وقت ایک غصہ میں بھرا ہوا انسان بیوی سے ادنی سی بات پر ناراض ہو کر اس کو مارتا ہے اور کسی نازک مقام پر چوٹ لگی ہے اور بیوی مرگ مرگئی ہے، اس لیے ان کے واسطے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ : عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۔ ہاں ! اگر وہ بے جا کام کرے تو تنبیہ ضروری چیز ہے۔ انسان کو چاہیے کہ عورتوں کے دل میں یہ بات جمادے کہ وہ کوئی ایسا کام جو دین اور شریعت کے خلاف ہو کبھی بھی پسند نہیں کر سکتا اور ساتھ ہی وہ ایسا جابر اور ستم شعار نہیں کہ اس کی کسی غلطی پر بھی چشم پوشی نہیں کر سکتا۔ الحکم جلد ۴ نمبر ۴۶ مورخه ۲۴ دسمبر ۱۹۰۰ صفحه ۲) يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَانَا وَ يُكَفِّرُ عَنْكُمْ سَيَّاتِكُمْ وَيَغْفِرُ لَكُمْ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ @ اے ایمان والو! اگر تم تقویٰ اختیار کرو تو تم میں اور تمہارے غیر میں خدا ایک فرق رکھ دے گا اور