تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 271 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 271

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۱ سورة الانفال کی آنکھ پر اس کا اثر نہ پہنچا ہو اور وہ سب اندھوں کی طرح ہو گئے اور ایسی سراسیمگی اور پریشانی ان میں پیدا ہو گئی کہ مدہوشوں کی طرح بھاگنا شروع کیا۔ اسی معجزہ کی طرف اللہ جل شانہ اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے: وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَھی یعنی جب تو نے اس مٹھی کو پھینکا وہ تو نے نہیں پھینکا بلکہ خدا تعالیٰ نے پھینکا یعنی در پردہ الہی طاقت کام کر گئی ، انسانی طاقت کا یہ کام نہ تھا۔ ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۶۵) ہے کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ کے دو ہاتھ جلالی و جمالی ہیں۔ اسی نمونہ پر چونکہ ہمارے نبی صلی اللہ اللہ جل شانہ کے مظہر اتم ہیں ۔ لہذا خدا تعالیٰ نے آپ کو بھی وہ دونوں ہاتھ رحمت اور شوکت کے عطا فرمائے۔ جمالی ہاتھ کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے کہ قرآن شریف میں ہے : وَمَا أَرْسَلُنَكَ إِلَّا رَحْمَةً العلمين (الانبياء : ۱۰۸) یعنی ہم نے تمام دنیا پر رحمت کر کے تجھے بھیجا ہے اور جلالی ہاتھ کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے : وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَهْى - (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۶۸ حاشیه و اربعین نمبر ۳ ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۴۲۱ حاشیه ) اہل اللہ قرب الہی میں ایسے مقام پر جا پہنچتے ہیں جبکہ ربانی رنگ بشریت کے رنگ و بو کو بتمام و کمال اپنے رنگ کے نیچے متواری کر لیتا ہے اور جس طرح آگ لوہے کو اپنے نیچے ایسا چھپا لیتی ہے کہ ظاہر میں بجز آگ کے اور کچھ نظر ہی نہیں آتا اور ظلی طور پر وہ صفات الہیہ کا رنگ اپنے اندر پیدا کرتا ہے اس وقت اس سے بدوں دعا و التماس ایسے افعال صادر ہوتے ہیں جو اپنے اندر الوہیت کے خواص رکھتے ہیں اور وہ ایسی باتیں منہ سے نکالتے ہیں جو جس طرح کہتے ہیں اسی طرح ہو جاتی ہیں ۔ قرآن کریم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ اور زبان سے ایسے امور کے صدور کی بصراحت بحث ہے جیسا کہ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۱۴۱ ) الله رفی ۔ ذلِكُمْ وَ أَنَّ اللَّهَ مُؤْمِنُ كَيْدِ الْكَفِرِينَ ۔ خدا تعالیٰ کافروں کے مکر کو سست کر دے گا اور ان کو مغلوب اور ذلیل کر کے دکھلائے گا۔ ( براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۱۶ حاشیه در حاشیہ نمبر (۳) وَ لَوْ عَلِمَ اللهُ فِيهِمْ خَيْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ وَ لَوْ أَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَهُمْ