تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 259
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۹ أَسْمَا بِهِ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ۔ سورة الاعراف خدا کے تمام کامل نام اسی سے مخصوص ہیں اور ان میں شرکت غیر کی جائز نہیں سوخدا کو انہیں ناموں سے پکارو جو بلا شرکت غیرے ہیں یعنی نہ مخلوقات ارضی و سماوی کے نام خدا کے لیے وضع کرو اور نہ خدا کے نام مخلوق چیزوں پر اطلاق کرو اور ان لوگوں سے جدا ر ہو جو کہ خدا کے ناموں میں شرکت غیر جائز رکھتے ہیں۔ عنقریب وہ اپنے کاموں کا بدلہ پائیں گے۔ ( براہین احمد یہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد نمبر ۱ صفحه ۵۲۲، ۵۲۳ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) أَوَ لَمْ يَنْظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْ شَيْءٍ وَ أَنْ عَسَى أَنْ يَكُونَ قَدِ اقْتَرَبَ أَجَلُهُمْ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ هُ يُؤْمِنُونَ قرآن کریم کے بعد کس حدیث پر ایمان لاؤ گے اور ظاہر ہے کہ ہم مسلمانوں کے پاس وہ نص جو اوّل درجہ پر قطعی اور یقینی ہے قرآن کریم ہی ہے اکثر احادیث اگر صحیح بھی ہوں تو مفید ظن ہیں وَالظَّنَّ لَا يُغْنِي (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۵۳) مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا - حسب آیت کریمہ فَبِأَيِّ حَدِيثِ بَعْدَ َلا يُؤْمِنُونَ۔ اور بحسب آیت کریمہ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللهِ وَ ايته يُؤْمِنُونَ (الجاثية : - ) ہر یک حدیث جو صریح آیت کے معارض پڑے رد کرنے کے لائق ہے اور آخری نصیحت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تھی کہ تم نے تمسک بکتاب اللہ کرنا۔ (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۱۰ ) فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللهِ وَايْتِهِ يُؤْمِنُونَ یعنی خدا اور اس کی آیتوں کے بعد کس حدیث پر ایمان لائیں گے۔ اس جگہ حدیث کے لفظ کی تنکیر جو فائدہ عموم کا دیتی ہے صاف بتلا رہی ہے کہ جو حدیث قرآن کے معارض اور مخالف پڑے اور کوئی راہ تطبیق کی پیدا نہ ہو۔ اس کو رد کر دو اور اس حدیث میں ایک پیشگوئی بھی ہے جو بطور اشارۃ النص اس آیت سے مترشح ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ آیت ممدوحہ میں اس بات کی طرف اشارہ فرماتا ہے کہ ایک ایسا زمانہ بھی اس اُمت پر آنے والا ہے کہ جب بعض افراد اس اُمت کے قرآن شریف کو چھوڑ کر ایسی حدیثوں پر بھی عمل کریں گے جن کے بیان کردہ بیان قرآن شریف کے بیانات سے مخالف اور معارض ہوں گے۔ ( ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۰۷)