تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 255
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۵ سورة الاعراف پانی کا قطرہ گول ہوتا ہے اور کروی شکل میں توحید ہی ہوتی ہے۔ اس لیے کہ وہ جہت کو نہیں چاہتی اور مثلث شکل جہت کو چاہتی ہے چنانچہ آگ کو دیکھو شکل بھی مخروطی ہے اور وہ بھی کرویت اپنے اندر رکھتی ہے اس سے بھی تو حید کا نور چمکتا ہے۔ زمین کو لو اور انگریزوں ہی سے پوچھو کہ اس کی شکل کیسی ہے؟ کہیں گے گول! الغرض طبعی تحقیقا تیں جہاں تک ہوتی چلی جائیں گی وہاں تو حید ہی تو حید نکلتی چلی جائے گی ۔ رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ ء صفحہ ۷۱) ( سوال پیش ہوا کہ جب ایک شخص نے ایک بات تحصیل کی ہے تو دوبارہ اسی کے تحصیل کرنے سے کیا حاصل ہے؟ فرمایا ) ہم اس اصول کو لا نُسَلِّم کہتے ہیں یہ ٹھیک نہیں ہے۔ قرآن میں لکھا ہے : قَالَ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بلی یعنی جب روحوں سے خدا نے سوال کیا کہ میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ تو وہ بولیں کہ ہاں ! تو اب سوال ہو سکتا ہے کہ روحوں کو علم تو تھا پھر انبیاء کو خدا نے کیوں بھیجا گو یا تحصیل حاصل کرائی ۔ یہ اصل میں غلط ہے۔ ایک تحصیل پھیکی ہوتی ہے ایک گاڑھی ہوتی ہے۔ دونوں میں فرق ہوتا ہے وہ علم جو کہ نبیوں سے ملتا ہے اس کی تین اقسام ہیں ، علم الیقین، عین الیقین حق الیقین ۔ اس کی مثال یہ ہے جیسے ایک شخص دور سے دھواں دیکھے تو اسے علم ہوگا کہ وہاں آگ ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جہاں آگ ہوتی ہے وہاں دھواں بھی ہوتا ہے اور ہر ایک دوسرے کے لیے لازم ملزوم ہیں ۔ یہ بھی ایک قسم کا علم ہے جس کا نام علم الیقین ہے۔ مگر اور نزد یک جا کر وہ اس آگ کو آنکھوں سے دیکھ لیتا ہے تو اسے عین الیقین کہتے ہیں پھر اگر اپنا ہاتھ اس آگ پر رکھ کر اس کی حرارت وغیرہ کو بھی دیکھ لیوے تو اسے کوئی شبہ اس کے بار۔ شبہ اس کے بارے میں نہ رہے گا ا ا نہ رہے گا اور اس طرح سے جو علم اسے حاصل ہو گا اس کا نام حق الیقین ہو گا اب کیا ہم اسے تحصیل حاصل کہہ سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں ! البدر جلد ۲ نمبر ۱۸ مورخه ۲۲ رمئی ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۳۷ ) خدا کے ساتھ تو انسان کا فطرتی تعلق ہے کیونکہ اس کی فطرت خدا تعالیٰ کے حضور میں اکستُ بِرَبِّكُمْ کے جواب میں قَالُوا بَلی کا اقرار کر چکی ہوئی ہے۔ ( بدر جلد ۶ نمبر ۱۱ مورخه ۱۴ مارچ ۱۹۰۷ ء صفحه ۶ ) وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْتُهُ بِهَا وَلَكِنَّهُ اخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوَيهُ ۚ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ إِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكُهُ يَلْهَثْ ذَلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ