تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 243 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 243

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لد الله سورة الاعراف یہ ہرگز سچ نہیں کہ جو کچھ قرآن کریم کے معارف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائے ان سے زیادہ قرآن کریم میں کچھ بھی نہیں ۔ یہ اقوال ہمارے مخالفوں کے صاف دلالت کر رہے ہیں کہ وہ قرآن کریم کی غیر محدودہ عظمتوں اور خوبیوں پر ایمان نہیں لا۔ رایمان نہیں لاتے اور ان کا یہ کہنا کہ قرآن کریم ایسوں کے لیے اترا ہے جو امی تھے اور بھی اس امر کو ثابت کرتا ہے کہ وہ قرآن شناسی کی بصیرت سے بکلی بے بہرہ ہیں۔ وہ نہیں سمجھتے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم محض امیوں کے لیے نہیں بھیجے گئے بلکہ ہر یک رتبہ اور طبقہ کے انسان ان کی امت میں داخل ہیں اللہ جل شانہ فرماتا ہے: قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا ۔ پس اس آیت سے ثابت ہے کہ قرآن کریم ہر یک استعداد کی تکمیل کے لیے نازل ہوا ہے اور در حقیقت آیت : ولاكن رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ (الاحزاب : ۴۱) میں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے۔ (کرامات الصادقين ، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۶۱ ) وہ قانون جو عام عدل اور احسان اور ہمدردی کے لیے دنیا میں آیا وہ صرف قرآن ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا ۔ یعنی کہہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف رسول کر کے بھیجا گیا ہوں ۔ ( سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۳۷۱) قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا ( الجزو نمبر ۹ ۔ لوگوں کو کہہ دے کہ میں تم سب کی طرف پیغمبر ہو کر آیا ہوں ۔ ( نور القرآن نمبر ا روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۳۴) ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہیں نہیں کہا کہ میں صرف عرب کے لیے بھیجا گیا ہوں بلکہ قرآن شریف میں یہ ہے : قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمُ جَمِيعًا یعنی لوگوں سے کہہ دے کہ میں تمام دنیا کے لیے بھیجا گیا ہوں ۔ پیغام صلح ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۶۹) قرآن شریف میں یہ نہیں لکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صرف قریش کے لیے بھیجے گئے ہیں بلکہ لکھا ہے کہ وہ تمام دنیا کے لیے بھیجے گئے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے : قُلْ يَايُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا یعنی لوگوں کو کہہ دے کہ میں تمام دنیا کے لیے بھیجا گیا ہوں نہ صرف ایک قوم کے لیے ہوں ۔ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۸۸،۳۸۷) اے تمام انسانو! جو زمین پر رہتے ہو۔ میں سب کی طرف رسول ہو کر آیا ہوں نہ کسی خاص قوم کی طرف اور سب کی ہمدردی میرا مقصد ہے۔ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۹۵)