تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 241 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 241

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام الدا سورة الاعراف حیران کر دیا۔ قرآن شریف جیسی پاک ، کامل کتاب آپ کے لبوں پر جاری ہوئی ۔ جس کی فصاحت و بلاغت نے سارے عرب کو خاموش کرادیا۔ وہ کیا بات تھی جس کے سبب سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم علوم میں سب سے بڑھ گئے۔ وہ تقویٰ ہی تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مطہر زندگی کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ قرآن شریف جیسی کتاب وہ لائے ۔ جس کے علوم نے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ آپ کا امتی ہونا ایک نمونہ اور دلیل ہے اس امر کی کہ قرآنی علوم یا آسمانی علوم کے لیے تقویٰ مطلوب ہے نہ دنیوی چالاکیاں ۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۱ء صفحه ۲، ۳) يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ رُوفِ وَيَنْهُهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبِيثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَلَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَ عَزَّرُوهُ وَ نَصَرُوهُ وَ اتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنْزِلَ مَعَةً أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ۔۔۔۔۔ ( یہ نبی ) ان باتوں کے لیے حکم دیتا ہے جو خلاف عقل نہیں ہیں اور ان باتوں سے منع کرتا ہے جن سے عقل بھی منع کرتی ہے اور پاک چیزوں کو حلال کرتا ہے اور ناب پاک کو حرام ٹھہراتا ہے ۔ اور قوموں کے سر پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جس کے نیچے وہ دبی ہوئی تھیں اور ان گردنوں کے طوقوں سے وہ رہائی بخشتا ہے جن کی وجہ سے گردنیں سیدھی نہیں ہو سکتی تھیں ۔ پس جو لوگ اس پر ایمان لائیں گے ۔ اور اپنی شمولیت کے ساتھ اس کو قوت دیں گے اور اس کی مدد کریں گے۔ اور اس نور کی پیروی کریں گے جو اس کے ساتھ اتارا گیا وہ دنیا اور آخرت کی مشکلات سے نجات پائیں گے۔ ( براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۴۲۰) وہ وہی لوگ ہیں جو اس رسول نبی پر ایمان لاتے ہیں کہ جس میں ہماری قدرت کاملہ کی دو نشانیاں ہیں ایک تو بیرونی نشانی کہ توریت اور انجیل میں اس کی نسبت پیشین گوئیاں موجود ہیں جن کو وہ آپ بھی اپنی کتابوں میں موجود پاتے ہیں دوسری وہ نشانی کہ خود اس نبی کی ذات میں موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ با وجود امی اور نا خواندہ ہونے کے ایسی ہدایت کامل لایا ہے کہ ہر ایک قسم کی حقیقی صداقتیں جن کی سچائی کو عقل و شرع شناخت کرتی ہے اور جو صفحہء دنیا پر باقی نہیں رہی تھیں لوگوں کی ہدایت کے لیے بیان فرماتا ہے اور ان کو اس کے بجالانے کے لیے حکم کرتا ہے اور ہر ایک نا معقول بات سے کہ جس کی سچائی سے عقل و شرع انکار کرتی ہے منع کرتا ہے اور پاک چیزوں کو پاک اور پلید چیزوں کو پلید ٹھہراتا ہے اور یہودیوں اور عیسائیوں کے سر پر سے وہ بھاری بوجھ اتارتا ہے جو ان پر پڑے ہوئے تھے اور جن طوقوں میں وہ گرفتار تھے ان سے خلاصی بخشتا