تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 239
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۹ سورة الاعراف جنہوں نے گوسالہ کو عزت دی اور اس کی پرستش کی ۔ ان پر غضب آئے گا اور ذلت کی ماران پر پڑے گی سود دنیا میں غضب نازل ہونے سے مراد طاعون ہے۔ ( نزول المسیح روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۵۳۳) جو لوگ خدا تعالیٰ کی راہ سے روکتے ہیں۔ عنقریب خدا تعالیٰ کا غضب ان پر وارد ہوگا ۔ مجموعه اشتہارات جلد دوم صفحہ ۳۳۶) جو لوگ عداوت سے باز نہیں آتے ۔ عنقریب ان پر غضب الہی نازل ہوگا۔ ( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ ۷۱۹) وَاكْتُبُ لَنَا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ إِنَّا هُدْنَا إِلَيْكَ قَالَ عَذَابِي أصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ وَ رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَ يُؤْتُونَ الزَّکٰوةَ وَالَّذِينَ هُمْ بِأَيْتِنَا يُؤْمِنُونَ عَذَابِي أَصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ یعنی میں اپنا عذاب جس کو لائق اس کے دیکھتا ہوں پہنچاتا ہوں اور میری رحمت نے ہر ایک چیز کو گھیر رکھا ہے۔ ( براہین احمد یہ چہار حصص، روحانی خزائن جلدا صفحه ۴۴۹ حاشیہ نمبر ۱۱) میں جس کو چاہتا ہوں عذاب پہنچاتا ہوں اور میری رحمت نے ہر چیز پر احاطہ کر رکھا ہے سو میں ان کے لیے جو ہر ایک طرح کے شرک اور کفر اور فواحش سے پر ہیز کرتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں اور نیز ان کے لیے جو ہماری نشانیوں پر ایمان کامل لاتے ہیں اپنی رحمت لکھوں گا۔ ( براہین احمد یہ چہار قصص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۵۶۴) اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ رحمت عام اور وسیع ہے اور غضب یعنی صفت عدل بعد کسی خصوصیت کے پیدا ہوتی ہے یعنی یہ صفت قانون الہی سے تجاوز کرنے کے بعد اپنا حق پیدا کرتی ہے اور اس کے لیے ضرور ہے کہ اول قانون الہی ہو اور قانونِ الہی کی خلاف ورزی سے گناہ پیدا ہو اور پھر یہ صفت ظہور میں آتی ہے اور اپنا تقاضا پورا کرنا چاہتی ہے۔ (جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۰۷) وعید میں دراصل کوئی وعدہ نہیں ہوتا ۔ صرف اس قدر ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدوسیت کی وجہ سے تقاضا فرماتا ہے کہ شخص مجرم کو سزا دے اور بسا اوقات اس تقاضا سے اپنے ملہمین کو اطلاع بھی دے دیتا ہے پھر جب شخص مجرم تو بہ اور استغفار اور تضرع اور زاری سے اس تقاضا کا حق پورا کر دیتا ہے تو رحمت الہی کا تقاضا