تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 208
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۸ سورة الاعراف اتری تھی نہ علی پر اور نہ کسی اور پر ۔ اگر کہو کہ اس وقت ہی غل تھا تو معلوم ہوتا ہے کہ نعوذ باللہ ! صحابہ ایسے سخت دل تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار کہا اور سمجھا یا مگر کسی نے آپ کا کہنا نہ مانا۔ یہ کیونکر ہو سکتا ہے۔ یہ تو بڑی بے ادبی ہے۔ اس کا پتہ لگتا ہے کہ یہ بعد کی خبر ہے مگر خدا کے سامنے یہ کوئی شے نہیں اسی لیے فرماتا ہے کہ تم اس پر خیال نہ کرو یہ بشریت کے اختلاف ؟ ہیں ہم ان کو بھائی بھائی بنا دیویں گے۔ خدا تعالیٰ ہی نے یہ پیشگوئی کی کہ ایسا ہو گا بعض آپس میں لڑیں گے۔ (البدر جلد نمبر ۲ مورخہ ۷ رنومبر ۱۹۰۲ ء صفحہ ۱۵) وَقَدْ جَرَتْ سُنَّتُهُ أَنَّهُ يَقْضِی اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ صالحین کے درمیان ایسے بَيْنَ الصَّالِحِينَ عَلى طَرِيقٍ لَّا يَقْضِی طریق پر فیصلہ کرتا ہے کہ وہ فاسقوں کے معاملات کا اس طریق عَلَيْهِ قَضَايَا الْفَاسِقِينَ، فَإِنَّهُمْ پر فیصلہ نہیں فرماتا ۔ کیونکہ وہ (صحابہ ۔ ناقل ) سب کے كُلُّهُمْ أَحِبَّاؤُهُ وَكُلُّهُمْ مِنَ الْمُحِبِينَ سب اس کے دوست ۔ اس کے محب اور اس کے مقبول ہیں اور الْمَقْبُولِينَ، وَلِأَجْلِ ذَلِكَ أَخْبَرَنَا اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان کے جھگڑوں کے انجام سے رَبُّنَا عَنْ مَالِ نِزَاعِهِمْ وَقَالَ وَهُوَ اطلاع دی اور اس نے جو اصدق الصادقین ہے فرمایا: وَ نَزَعُنا أَصْدَقُ الْقَائِلِينَ نَزَعْنَا مَا فِي مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِلَّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُّتَقْبِلِينَ اور صُدُورِهِمْ مِّنْ غِلَّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ ہم ان کے دلوں سے جو بھی کہتے ہیں نکال باہر کریں گے ۔ مُتَقْبِلِينَ هَذَا هُوَ الْأَصْلُ الصَّحِيحُ بھائی بھائی بنتے ہوئے تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے اور یہی صحیح اصل اور حق صریح ہے۔ ( ترجمہ از مرتب ) وَالْحَقُّ الصَّرِيحُ ( سر الخلافة ، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۳۴۸،۳۴۷) الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدْنَا لِهَذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْ لَا أَنْ هَدانا الله سب تعریفیں خدا کو ہیں جس نے جنت کی طرف ہم کو آپ راہبری کی اور ہم کیا چیز تھے کہ خود بخود منزل مقصود تک پہنچ جاتے اگر خدار ہبری ( براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۱۶۹ حاشیہ نمبر ۱۱ ) نہ کرتا۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدْنَا لِهَذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدْنا الله - یعنی سب تعریف اس خدا کو جس نے ہمیں بہشت میں داخل ہونے کے لیے آپ ہی سب توفیق بخشی ، آپ ہی ایمان بخشا، آپ ہی نیک کرائے ، آپ پ ہی ہمارے دلوں کو پاک کیا اگر وہ خود مد نہ کرتا تو ہم آپ تو کچھ بھی چیز نہ تھے۔ خود مد عمل کرا۔ ل الحجر : ٤٨ ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۱۱، ۲۱۲)