تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 206
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۶ سورة الاعراف یہ خوب یادر ہے کہ ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر روح بلا جسم ہرگز بلا جسم ہر گز نہیں مانتے ، ہم مانتے ہیں کہ وہ وہاں جسم ہی کے ساتھ ہیں ۔ ہاں ! فرق اتنا ہے کہ یہ لوگ جسم عنصری کہتے ہیں اور میں کہتا ہوں کہ وہ جسم وہی جسم ہے جو دوسرے رسولوں کو دیا گیا ہے۔ دوزخیوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ یعنی کافروں کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاویں گے اور مومنوں کے لیے فرماتا ہے : مُفَتحَةً لَّهُمُ الْأَبْوَابُ (ص : ۵۱) ۔ اب ان آیات میں لھم کا لفظ اجسام کو چاہتا ہے۔ تو کیا یہ سب کے سب پھر اس جسم عنصری کے ساتھ جاتے ہیں؟ نہیں ایسا نہیں ، جسم تو ہوتے ہیں مگر وہ وہ جسم ہیں جو مرنے کے بعد دیئے جاتے ہیں ۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۳۵ مورخه ۱۰ راکتوبر ۱۹۰۵ء صفحه ۸۹ ) مسلمانوں اور یہود کا متفقہ اور مسلم اعتقاد اس پر ہے کہ خدا کے نیک بندوں کا بعد وفات رفع روحانی ہوا کرتا ہے اور یہی قابل بڑائی بات ہے۔ رفع جسمانی کے یہ نہ قائل ہیں اور نہ کوئی فضیلت اس میں مد نظر ہے۔ چنانچہ قرآن شریف بھی اسی اصول کو یوں بیان فرماتا ہے کہ مُفَتَّحَةً لَهُمُ الْأَبْوَابُ ( ص : ۵۱) ۔ یعنی جو خدا کے نزدیک متقی اور برگزیدہ انسان ہوتے ہیں خدان کے لیے آسمانی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے اور ان کا رفع روحانی بعد الموت کیا جاتا ہے اور ان کے مقابل میں جو لوگ بدکار اور خدا سے دور ہوتے ہیں اور ان کو خدا سے کوئی تعلق صدق و اخلاص نہیں ہوتا ان کے واسطے آسمانی دروازے نہیں کھولے جاتے جیسا کہ فرمایا : لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ - الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۰ مورخه ۲۲ مارچ ۱۹۰۸ ء صفحه ۲) وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ یعنی کفار جنت میں داخل نہ ہوں گے جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نہ گذر جائے ۔ مفسرین اس کا مطلب ظاہری طور پر لیتے ہیں مگر میں یہی کہتا ہوں کہ نجات کے طلب گار کو خدا تعالیٰ کی راہ میں نفس کے شتر بے مہار کو مجاہدات سے ایسا د بلا کر دینا چاہیے کہ وہ سوئی کے ناکہ میں سے گزر جائے جب تک نفس دنیوی لذائذ و شہوانی حظوظ سے موٹا ہوا ہوا ہے تب تک یہ شریعت کے پاک راہ سے گزر کر بہشت میں داخل نہیں ہو سکتا ۔ دنیوی لذات پر موت وارد کرو اور خوف وخشیت الہی سے دبلے ہو جاؤ تب تم گذر سکو گے اور یہی گذرنا تمہیں جنت میں پہنچا کر نجات اخروی کا موجب ہوگا ۔ الحکم جلدے نمبر ۲۰ مورخہ ۳۱؍مئی ۱۹۰۳ صفحه ۱۴) شریعت نے دو طرفوں کو مانا ہے ایک خدا کی طرف اور وہ اونچی ہے جس کا مقام انتہائے عرش ہے اور