تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 195
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۵ سورة الاعراف كَمَا خَصَّصَ مَوْتَهُمْ بِالثّرى آتَتُرُكُونَ مخصوص فرمایا ہے جس طرح ان کی موت کو مٹی سے خاص كَلَامَ اللهِ وَ شَهَادَةَ نَبِيِّهِ وَ تَتَّبِعُونَ کر دیا ۔ اے لوگو کیا تم اللہ تعالیٰ کے کلام اور اس کے نبی أَقْوَالًا آخَرَ بِئْسَ لِلظَّالِمِينَ بَدَلًا أَيُّهَا کی شہادت کو چھوڑ کر دوسری باتوں کی اتباع کرتے ہو۔ النَّاسِ قَدْ أَعْثَرَنِي اللهُ عَلى هذا السر و ظالموں کا بدلہ نہایت ہی برا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس عَلَّمَنِي مَا لَمْ تَعْلَمُوا وَ أَرْسَلَنِي إِلَيْكُمْ راز سے آ راز سے آگاہ فرمایا ہے اور مجھے وہ کچھ سکھایا ہے جس کا تم حَكَمًا عَدَلًا لا كُشِفَ عَلَيْكُمْ مَا كَانَ کو علم نہیں اور مجھے تمہاری طرف حکم و عدل بنا کر بھیجا ہے عَلَيْكُمْ مُسْتَتِرًا۔ فَلَا تُمَارُوا وَلَا تاکہ تم پر وہ باتیں کھولوں جو پہلے تم پر پوشیدہ تھیں ۔ پس تُجَادِلُوا ۔ ( آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۴۳۳، ۴۳۴) شک نہ کرو اور نہ جھگڑا کرو۔ (ترجمہ از مرتب ) زمین پر ہی تم زندگی بسر کرو گے ۔ اب دیکھو اگر کوئی آسمان پر جا کر بھی کچھ حصہ زندگی کا بسر کر سکتا ہے تو اس سے اس آیت کی تکذیب لازم آتی ہے۔ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۹۱٬۹۰) اگر مان لیا جاوے کہ حضرت مسیح زنده بجسم عنصری آسمان پر تشریف لے گئے۔ تو پھر آیت : فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي (المائدة : ۱۱۸) کیوں کر صحیح ٹھہر سکتی ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ حضرت مسیح کی وفات کے بعد عیسائی بگڑ گئے۔ جب تک کہ وہ زندہ تھے عیسائی نہیں بگڑے اور پھر اس آیت کے کیا معنی ہو سکتے ہیں کہ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَ فِيهَا تموتون کہ زمین پر ہی تم زندگی بسر کرو گے اور زمین پر ہی مرو گے کیا وہ شخص جو اٹھارہ سو برس سے آسمان پر بقول مخالفین زندگی بسر کر رہا ہے وہ انسانوں کی قسم میں سے نہیں ہے اگر مسیح انسان ہے تو نعوذ باللہ مسیح کے اس مدت دراز تک آسمان پر ٹھہرنے سے یہ آیت جھوٹی ٹھہرتی ہے اور اگر ہمارے مخالفوں کے نزدیک انسان نہیں ہے بلکہ خدا ہے تو ایسے عقیدہ سے وہ خود مسلمان نہیں ٹھہر سکتے۔ (تحفہ گولڑویہ ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۱۰،۳۰۹) بعض نادان کہتے ہیں کہ یہ بھی تو عقیدہ اہل اسلام کا ہے کہ الیاس اور خضر زمین پر زندہ موجود ہیں اور حدیث حد ادریس آسمان پر مگر ان کو معلو پر مگر ان کو معلوم نہیں کہ علماء علماء محققین ان کو زندہ نہیں سمجھتے کیونکہ بخاری اور مسلم کی ایک میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قسم کھا کر کہتے ہیں کہ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ آج سے ایک سو برس کے گزرنے پر زمین پر کوئی زندہ نہیں رہے گا۔ پس جو شخص خضر اور الیاس کو زندہ جانتا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مکذب ہے اور ادریس کو اگر آسمان پر زندہ مانیں تو پھر ماننا پڑے گا