تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 170
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ١٧٠ سورة الانعام أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أَهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغَ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ۔ دیکھو سود کا کس قدر سنگین گناہ ہے کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں ۔ سؤر کا کھانا تو بحالت اضطرار جائز رکھا غَفُورٌ رَّحِیم یعنی جو ہے۔ چنا چنانچہ فرماتا ہے : فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغِ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ شخص باغی نہ ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا تو اس پر کوئی گناہ نہیں اللہ غفور و رحیم ہے مگر سود کے لیے نہیں فرمایا کہ ( بدر جلدے نمبر ۵ مورخه ۶ رفروری ۱۹۰۸ صفحه ۶) بحالت اضطرار جائز ہے۔ وَ عَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَا إِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَا أَوِ الْحَوَايَا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ذَلِكَ جَزَيْتُهُمُ بِبَغْيِهِمْ وَإِنَّا لَصَدِقُونَ واوو عیسائی نامہ نگاروں نے بیان کیا ہے کہ اگر انبیاء کی نسبت جرم کا لفظ نہیں آیا تو یہودیوں کی نسبت بھی نہیں آیا۔ یہ ان کی جہالت کا دوسرا ثبوت ہے یہودیوں کی نسبت کئی جگہ جرم کا لفظ قرآن شریف میں آیا ہے۔ نمونہ کے لیے صرف تین آیتیں لکھنی کافی ہوں گی ۔ ایک آیت یہ ہے: وَعَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ وَ مِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَا إِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَا أَوِ الْحَوَايَا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ذَلِكَ جَزَيْنَهُم بِبَغْيِهِمْ * وَ إِنَّا وَ إِنَّا لَصْدِقُونَ فَإِنْ كَذَّبُوكَ فَقُلْ رَبُّكُمْ ذُو رَحْمَةٍ وَاسِعَةٍ وَلَا يُرَدُّ بَأْسُهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ اس آیت میں یہودیوں کا ذکر ہے جن کی نسبت لفظ مجرمین آیا ہے ۔ دوسری آیت یہ ہے : وَ لَقَدْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا إِلَى قَوْمِهِمْ فَجَاءُوهُم بِالْبَيِّنَتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِينَ اجْرَمُوا وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ ( الرُّوم : ۴۸) اس آیت میں گذشتہ انبیاء کے دشمنوں کو مجرم بیان کیا ہے حضرت مسیح بھی انہیں نبیوں میں شامل ہیں اس لیے ان کے دشمن قرآن شریف کی رو سے مجرم ٹھہرتے ہیں ۔ اب ہم عیسائی صاحبان سے پوچھتے ہیں کہ آیا یہودی حضرت مسیح کے دشمن تھے یا دوست؟ اگر وہ آپ کے دوست تھے تو بیشک وہ مجرم نہیں ہیں لیکن اگر وہ آپ کے دشمن تھے تو پھر قرآن شریف کی رو سے وہ مجرم ٹھہرتے ہیں۔ تیسری آیت یہ ہے : وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِي عَدُوًّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ (الفرقان : ٣٢)