تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 148
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام الد ٧ سورة الانعام پیروی کرنے والے اور ہر ایک ظلم سے بچنے والے جس کا علم محض خدا کو ہے بچائے جائیں گے اور کمزور لوگ طاعون سے شہید ہو کر شہادت کا اجر پاویں گے اور طاعون ان کے لیے تمحیص اور تطہیر کا موجب ٹھیرے گی۔ مجموعه اشتہارات جلد دوم صفحہ ۷۱۱، ۷۱۲ ) جن لوگوں نے مجھے قبول کیا اور مجھ پر ایمان لائے اور اپنے ایمان کو کی ظلم اور قصور اور کسی نوع کی ایمانی یا عملی تاریکی یا نقص کے ساتھ مختلط نہیں کیا وہ طاعون کے حملہ سے امن میں رہیں گے ۔ پس وحی الہی سے کہاں سے یہ ثابت ہے کہ جو لوگ اپنے اندر کچھ نقص اور ظلم رکھتے ہیں یا کوئی ایمانی کمزوری ہے وہ بھی اس وعدہ الہی کے نیچے داخل ہیں ۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۱۴ مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۵ ء صفحه ۵) ماننا پڑتا ہے کہ بعض مومنوں کو بھی طاعون ہو سکتا ہے مگر یادر ہے وہی مومن جو کامل نہیں ۔ اسی لیے میرے الہام میں ہے کہ وہ طاعون سے محفوظ رہیں گے جو لَمْ يَلْبِسُوا إِيْمَانَهُمْ بِظُلم کے مصداق ہیں یعنی اپنے ایمان کے نور میں کسی قسم کی تاریکی شامل نہیں کرتے اور یہ مقام سوائے کاملین کے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا سنہ ۶ ہجری میں جب طاعون پڑا ہے تو کوئی مسلمان نہیں مرا لیکن جب حضرت عمر کے عہد میں طاعون پڑا تو کئی صحابی بھی شہید ہوئے ۔ وجہ یہ کہ کامل مومن ہی ایسی باتوں سے محفوظ رہتے ہیں ۔ ( بدر جلد ۶ نمبر ۱۷ مورخه ۲۵ را پریل ۱۹۰۷ صفحه ۹) جن لوگوں نے مان لیا ہے اور اپنے ایمان کے ساتھ کسی ظلم کو نہ ملایا۔ ایسے لوگوں کے واسطے امن ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں ۔ اس میں خدا تعالیٰ کی طرف سے وعدہ ہے کہ جماعت کے وہ لوگ بچائے جائیں گے جو پورے طور سے ہماری ہدایتوں پر عمل کریں اور اپنے اندرونی عیوب اور اپنی غلطیوں کی میل کو دور کر دیں گے اور نفس کی بدی کی طرف نہ جھکیں گے۔ ( بدر جلد ۶ نمبر ۱۴ مورخہ ۴ را پریل ۱۹۰۷ ء صفحہ ۷ ) وَ مِنْ آبَائِهِمْ وَذُرِّيَّتِهِمْ وَ وَ إِخْوَانِهِمْ وَ اجْتَبَيْنَهُمْ وَ هَدَيْنَهُمْ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ اجْتَبَینھم اور ہم نے ان کو چن لیا یعنی وہ باعتبار اپنی فطرتی قوتوں کے دوسروں میں سے چیدہ اور برگزیدہ تھے اس لیے قابلِ رسالت و نبوت ٹھہرے۔ ( براہین احمدیہ چہار خصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۱۸۵ حاشیه در حاشیہ نمبر ۱۱)