تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 132 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 132

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۲ سورة الانعام نازل کرنے پر قادر ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔ براہین احمد یہ چہار تخصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۵۱، ۲۵۲ حاشیہ نمبر ۱۱) قدرت تو حقیقت میں اسی بات کا نام ہے جو داغ احتیاج اسباب سے منزہ اور پاک اور ادراک انسانی سے برتر ہو۔ اول خدا کو قادر کہنا اور پھر یہ زبان پر لانا کہ اس کی قدرت اسباب مادی سے تجاوز نہیں کرتی ۔ حقیقت میں اپنی بات کو آپ رد کرنا ہے۔ پرانی تحریریں، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۳۶) وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَبِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَبِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ ) کوئی صداقت علم الہی کے متعلق جو انسان کے لیے ضروری ہے اس کتاب سے باہر نہیں۔ ( براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۲۲۳ حاشیہ نمبر ۱۱) اس کتاب (قرآن شریف) سے کوئی دینی حقیقت باہر نہیں رہی بلکہ یہ جمیع حقائق و معارف دینیه مشتمل ہے۔ (سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۶۱ حاشیه ) ہر چند میرا مذہب یہی ہے کہ قرآن اپنی تعلیم میں کامل ہے اور کوئی صداقت اس سے باہر نہیں کیونکہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے ۔۔۔۔ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَبِ مِنْ شَيْءٍ یعنی ہم نے اس کتاب سے کوئی چیز باہر نہیں رکھی لیکن ساتھ اس کے یہ بھی میرا اعتقاد ہے کہ قرآن کریم سے تمام مسائل دینیہ کا استخراج و استنباط کرنا اور اس کی مجملات کی تفاصیل صحیحہ پر حسب منشاء الہی قادر ہونا ہر ایک مجتہد اور مولوی کا کام نہیں بلکہ یہ خاص طور پر ان کا کام ہے جو وحی الہی سے بطور نبوت یا بطور ولایت عظمی مدد دیئے گئے ہوں ۔ سوایسے لوگوں کے لیے جو استخراج و استنباط معارف قرآنی پر بعلت غیر ملہم ہونے کے قادر نہیں ہو سکتے یہی سیدھی راہ ہے کہ وہ بغیر قصد استخراج و استنباط قرآن کے ان تمام تعلیمات کو جو سنن متوارثہ متعاملہ کے ذریعہ سے ملی ہیں ۔ بلا تامل وتوقف قبول کر لیں اور جولوگ وحی ولایت عظمی کی روشنی سے منور ہیں اور الا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة : ۸۰) کے گروہ میں داخل ہیں ان سے بلا شبہ عادت اللہ یہی ہے کہ وہ وقتا فوقتا دقائق مخفیہ قرآن کے ان پر کھولتا رہتا ہے اور یہ بات ان پر ثابت کر دیتا ہے کہ کوئی زائد تعلیم آنحضرت صلی اللہ علی وسلم نے ہر گز نہیں دی بلکہ احادیث صحیحہ میں مجملات و اشارات قرآن کریم کی تفصیل ہے۔ سو اس معرفت کے پانے سے اعجاز قرآن کریم ان پر کھل جاتا