تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 128
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۸ سورة الانعام ♡ سچا ملہم سمجھتے مجھتے اور میرے الہامات کو میرا ہی افتراء یا شیطانی وساوس خیال نہ کرتے تو اس قدر سب و شتم اور ہنسی اور ٹھٹھا اور تکفیر اور بد تہذیب کے ساتھ پیش نہ آتے بلکہ اپنے بہت سے ظنون فاسدہ کا حُسن ظن کے غلبہ سے آپ فیصلہ کر لیتے کیونکہ کسی کی سچائی اور منجانب اللہ ہونے کے یقین کے بعد وہ مشکلات ہرگز پیش نہیں آتیں کہ جو اس حالت میں پیش آتی ہیں کہ انسان کے دل پر اس کے کاذب ہونے کا خیال غالب ہوتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ خدائے تعالیٰ نے میری سچائی کے سمجھنے کے لیے بہت سے قرائن واضح ان کو عطا کئے تھے، میرا دعویٰ صدی کے سر پر تھا، میرے دعوٹی کے وقت میں خسوف کسوف ماہ رمضان میں ہوا تھا ، میرے دعوئی الہام پر پورے بیس برس گزر گئے اور مفتری کو اس قدر مہلت نہیں دی جاتی ، میری پیشگوئی کے مطابق خدا نے آتھم کو کچھ مہلت بھی دی اور پھر مار بھی دیا، مجھ کو خدا نے بہت سے معارف اور حقائق بخشے اور اس قدر میری کلام کو معرفت کے پاک اسرار سے بھر دیا کہ جب تک انسان خدائے تعالیٰ کی طرف سے پورا تائید یافتہ نہ ہو اس کو یہ نعمت نہیں دی جاتی لیکن مخالف مولویوں نے ان باتوں میں سے کسی بات پر غور نہیں کی ۔ سواب چونکہ تکذیب اور تکفیران کی انتہاء تک پہنچ گئی اس لیے وقت آگیا کہ خدائے قادر اور علیم اور خبیر کے ہاتھ سے جھوٹے اور سچے میں فرق کیا جائے ۔ ہمارے مخالف مولوی اس بات کو جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں ایسے شخص سے کس قدر بیزاری ظاہر کی ہے جو خدائے تعالیٰ پر افتراء باند ھے۔ یہاں تک کہ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا ہے کہ اگر بعض قول میرے پر افتراء کرتا تو میں فی الفور پکڑ لیتا اور رگ جان کاٹ دیتا۔ غرض خدا تعالیٰ پر افتراء کرنا اور یہ کہنا کہ فلاں فلاں الہام مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوا ہے حالانکہ کچھ بھی نہیں ہوا، ایک ایسا سخت گناہ ہے کہ اس کی سزا میں صرف جہنم کی ہی وعید نہیں بلکہ قرآن شریف کے نصوص قطعیہ سے ثابت ہوتا۔ ہے کہ ایسا مفتری اسی دنیا میں دست بدست سزا پالیتا ہے اور خدائے قادر و غیور کبھی اس کو امن میں نہیں چھوڑتا اور اس کی غیرت اس کو کچل ڈالتی ہے اور جلد ہلاک کرتی ہے۔ اگر ان مولویوں کا دل تقویٰ کے رنگ سے کچھ بھی رنگین ہوتا اور خدا تعالیٰ کی عادتوں اور سنتوں سے ایک ذرہ بھی واقف ہوتے تو ان کو معلوم ہوتا کہ ایک مفتری کا اس قدر در از عرصہ تک افتراء میں مشغول رہنا بلکہ روز بروز اس میں ترقی کرنا اور خدا تعالیٰ کا اس کے افتراء پر اس کو نہ پکڑنا بلکہ لوگوں میں اس کو عزت دینا دلوں میں اس کی قبولیت ڈالنا اور اس کی زبان کو چشمہ حقائق و معارف بنانا یہ ایک ایسا امر ہے کہ جب سے خدا تعالیٰ نے دنیا کی بنیاد ڈالی ہے اس کی نظیر ہرگز نہیں پائی جاتی ۔ افسوس کہ کیوں یہ منافق مولوی خدا تعالیٰ کے احکام