تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 120
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام الم۔ سورة المائدة و شارح عینی سلسلہ قول ابن عباس را تمام کے معنوں میں ظاہر کیا ہے اور شارح عینی نے ابن عباس کے و کمال بیان فرمودہ ۔ پس مارا بعد زین قول کو بہ تمام و کمال بیان فرمایا ہے۔ پس اتنی وضاحت کے وضاحت با حاجت ثبوتے دیگر نیست گو بعد ہمیں کسی ثبوت دیگر کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر چہ ہم ثبوت ہائے دیگر ہم داریم ۔ لغت عرب دوسرے ثبوت بھی رکھتے ہیں۔ لغت عرب ہمارے ساتھ با ماست - عقل انسانی با ماست اقرار دیگر ہے، انسانی عقل ہمارے ساتھ ہے، دیگر قوموں کا اقرار قوم با با ماست - اقرار اکثر آئمہ اسلام ہمارے ساتھ ہے، اسلام کے اکثر ائمہ کا تصور واقرار ہمارے باماست و تا هنوز قبر عیسی علیه السلام در بلاد ساتھ ہے اور بلا د شام میں ابھی تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شام موجود است ۔ قبر موجود ہے۔ ( ترجمہ اصل کتاب سے ) تو جس شخص سے قرآن وحدیث ( بیان کرنے ) سے رہائی آں کس کہ بقرآن و خبر زو نرہی این است جوابش کہ جوابش ندہی نہ پاسکے ، اس کا ( صحیح ) جواب یہ ہے کہ اسے جواب نہ مجموعه اشتہارات، جلد دوم صفحه ۲۷ تا ۲۹) | دے۔ (ترجمہ از مرتب ) قَالَ اللهُ هُذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصُّدِقِينَ صِدْقُهُمْ لَهُمْ جَنَّتُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهُرُ خُلِدِينَ فِيهَا أَبَدًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ۔ طاعون کے بارے میں خواہ کوئی حیلہ حوالہ کریں ہرگز کام نہ آوے گا آخر مستقر خدا تعالیٰ ہی ہوگا ۔ لوگ جب اس کو مانیں گے تب وہ اس سے رہائی دے گا ۔ آینَ الْمَغَر بھی اسی پر چسپاں ہے کیونکہ دوسرے آفات میں تو کوئی نہ کوئی مفر ہوتا ہے مگر طاعون میں کوئی مفر نہیں ہے صرف خدا کی پناہ ہی کام آوے گی ۔ خدا کی طرف ظلم کبھی منسوب نہیں ہو سکتا۔ جو صار و صادق ہوگا وہ ضرور اپنے صدق ۔ نے صدق سے نفع پاوے گا۔ یہ وہی دن ہیں جن کی نسبت کہا گیا ہے : هُذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصُّدِقِينَ صِدْقُهُمْ - - (البدر جلد ۳ نمبر ۲۵ مورخہ یکم جولائی ۱۹۰۴ء صفحہ ۶) اب اس جگہ سوچنے کے قابل یہ بات ہے کہ قیامت کا دن ہوگا اور سب لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور میں کھڑے ہوں گے اور وہ گھڑی ہوگی جس کے متعلق کہا گیا ہے کہ ھذا يَوْمُ يَنْفَعُ الصُّدِقِينَ صِدْقُهُمْ - وه دن ہوگا جبکہ سچ بولنے والوں کو ان کا سچ نفع دے گا۔ اچھا تو ایسے وقت میں حضرت عیسی خدا تعالیٰ کو یہ کہیں