تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page xiii
صفحه ۱۱۵ ۱۲۵ ۱۲۶ ۱۲۷ ۱۳۱ ۱۳۲ ۱۳۲ الله ۱۳۷ xii مضمون یہی لفظ توفی اور مقامات میں دوسرے انبیاء کے حق میں وارد ہے تو اس ر شمار ۷۰ کے معنے بجرموت کے اور کچھ نہیں لیے جاتے ال خدا تعالیٰ مفتری علی اللہ کو ہر گز سلامت نہیں چھوڑتا اسی دنیا میں اس کو سزا دیتا ہے اور ہلاک کرتا ہے فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِايْتِہ میں ظالم سے سے مراد اس جگہ کا فر ہے منہاج نبوت کے لیے جو معیار ہے اس پر میرے دعوی کو دیکھو آنحضرت بہت جلد فیصلہ کفار کے حق میں چاہتے تھے مگر خدا تعالیٰ اپنے مصالح اور سنن کے لحاظ سے بڑے توقف اور حلم سے کام کرتا ہے ہر چند میرا مذہب یہی ہے کہ قرآن اپنی تعلیم میں کامل ہے اور کوئی صداقت اس سے باہر نہیں قرآن کریم کے تمام مسائل دینیہ کا استخراج و استنباط کرنا اور اس کی مجملات کی تفاصیل صحیحہ پر حسب منشاء الہی قادر ہونا ہر ایک مجتہد اور مولوی کا کام نہیں مولوی غلام دستگیر قصوری نے میرے صدق و کذب کا فیصلہ آیت فقطع دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا پر چھوڑا تھا چونکہ وہ خدا کی نظر میں ظالم تھا اس لیے اس کو مہلت نہ ملی میں نے کئی بار اشتہار دیا ہے کہ کوئی ایسی سچائی پیش کرو جو ہم قرآن شریف سے نہ نکال سکیں ۷۲ ۷۳ ۷۴ ۷۵ ۷۶ 44 ۷۸